سنن النسائي - حدیث 59

ذِكْرُ الْفِطْرَةِ بَاب مَاءِ الْبَحْرِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنْ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 59

کتاب: امور فطرت کا بیان سمندری پانی کا حکم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا بہت پانی لے جاتے ہیں، چنانچہ اگر ہم اس سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں، تو کیا ہم سمندری پانی سے وضو کرلیا کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمندر کا پانی طاہر و مطہر ہے اور اس میں مر جانے والے جانور حلال ہیں۔‘‘ (۱) سوال کا سبب یہ تھا کہ سمندری پانی سخت نمکین ہوتا ہے اور اس میں سمندری جانور اور مسافر مرتے رہتے ہیں۔ ان کی گندگی بھی وہیں رہتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ شرعاً ناقابل استعمال ہو، مگر نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ ان سب کے باوجود سمندری پانی پاک ہے اور دوسری چیزوں کو بھی پاک کرنے کی اہلیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ماء کثیر ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے اس پانی میں ایسے اجزاء شامل فرمائے ہیں کہ اس پانی میں گندگی کرنے کے باوجود تعفن پیدا نہیں ہوتا۔ رنگ، بو اور ذائقہ بھی نہیں بدلتا۔ (۲) [الحل میتتہ] یعنی سمندری جانور، جو سمندر میں مر جائیں، حلال ہیں۔ اس جملے کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ چونکہ سمندری جانور حلال ہیں (مرنے کے بعد بھی) لہٰذا ان کی موت سے پانی پلید نہیں ہوتا۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ ایک مزید حکم معلوم ہوگیا کہ اگر دوران سفر میں کھانے کے لیے ایسا جانور مل جائے تو اسے بلاتردد کھایا جا سکتا ہے۔ یہ بحث کہ اس [میتہ] ’’مردار‘‘ سے صرف مچھلی مراد ہے یا ہر سمندری جانور، اپنے مقام پر آگے آئے گی۔ ان شاء اللہ۔ (۳) سوال کرنے والے آدمی کا نام عبداللہ مدلجی تھا۔ تفصیل کیلئے دیکھیے: (عون المعبود: ۱۵۲/۱، حدیث: ۸۳)