سنن النسائي - حدیث 586

كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ إِبَاحَةُ الصَّلَاةِ فِي السَّاعَاتِ كُلِّهَا بِمَكَّةَ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَابَاهَ يُحَدِّثُ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ وَصَلَّى أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 586

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل مکہ مکرمہ میں تمام اوقات میں نماز پڑھنا جائز ہے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے بنی عبدمناف! تم کسی کو نہ روکو جو اس گھر کا طواف کرے اور نماز پڑھے، دن یا رات کے جس وقت میں چاہے۔‘‘ فقہائے محدثین نے اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ بیت اللہ میں نفل نماز کے لیے کوئی وقت مکروہ نہیں ہے کیونکہ یہ شرف و عظمت کی جگہ ہے۔ لوگ وہاں ہر وقت مستفید ہوتے ہوں۔ وہاں کسی بھی وقت کی نماز غیرمسلمین کے مشابہ نہیں ہوسکتی، لہٰذا صرف طواف کے بعد ہی دو رکعتوں کی اجازت نہیں بلکہ مطلقاً نوافل پڑھنے کی رخصت ہے جیسا کہ اس مفہوم کی مؤید حدیث ابن حبان میں بایں الفاظ آتی ہے: [یا بنی عبدالمطلب! ان کان الیکم من الامر شی فلا اعرفن احدا منھم ان یمنع من یصلی عند البیت ای ساعۃ من لیل اونھار] ’’اے بنی عبدالمطلب! اگر تمھارے پاس کوئی اختیار آجائے تو میں ان میں سے کسی (صاحب اختیار) کو نہ جانوں جو منع کرے اس شخص کو جو بیت اللہ مین دن یا رات کی کسی گھڑی میں نماز پڑھتا ہے۔‘‘ (صحیح ابن حبان: ۴؍۴۲۰، حدیث:۱۵۵۲) اس حدیث سے ان مکروہ اوقات میں عام نوافل پڑھنے کی بھی اجازت ہے، لہٰذا اس حدیث سے نہی کی احادیث کی تخصیص کی جائے گی۔ اس طرح سب روایات پر عمل ہوجائے گا۔ لیکن احناف نے نہی کی روایات کی بنا پر اس حدیث اور اس مفہوم کی دیگر احادیث کو چھوڑ دیا ہے۔ اور اس حدیث کی تاویل کی ہے کہ آپ نے حرم کے متولی حضرات کو نمازیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روکنے سے منع کیا ہے، نہ کہ نمازیوں کو ہر وقت نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ مگر یہ اوپر کی صحیح تصریح حدیث کے خلاف ہے، نیز اس سے صریح جواز کی روایات کا ترک لازم آتا ہے۔ کیا اس سے بہتر نہیں کہ عام نہی کی روایات کو ان روایات سے خاص کر کے سب پر عمل کیا جائے؟ غور فرمائیں۔ احادیث میں چونکہ صرف بیت اللہ کی تخصیص ہے، اس لیے اس اجازت میں حرم یا پورا مکہ شامل نہیں ہے، یہاں مکہ سے بظاہر بیت اللہ ہی مراد ہے جیسا کہ احادیث میں آتا ہے اور جس حدیث میں پورے مکہ کا استثنا ہے، وہ سنداً ضعیف ہے، اس کی سند میں عبداللہ بن مؤمل ضعیف راوی ہے۔ واللہ اعلم۔