سنن النسائي - حدیث 5752

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي النَّبِيذِ حسن الإسناد مقطوع أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ أَبِي مِسْكِينٍ قَالَ سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ قُلْتُ إِنَّا نَأْخُذُ دُرْدِيَّ الْخَمْرِ أَوْ الطِّلَاءِ فَنُنَظِّفُهُ ثُمَّ نَنْقَعُ فِيهِ الزَّبِيبَ ثَلَاثًا ثُمَّ نُصَفِّيهِ ثُمَّ نَدَعُهُ حَتَّى يَبْلُغَ فَنَشْرَبُهُ قَالَ يُكْرَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5752

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل نبیذ کی بابت ابراہیم نخعی پر اختلاف کا بیان حضرت ابو مسکین سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابراہیم نخعی سے پوچھا کہ ہم شراب یا طلاء کی باقی ماندہ تلچھٹ کو لیکر اسے صاف کرتے ہیں پھر اس میں منقیٰ بھگو کر تین د ن تک پڑا رہنے دیتے ہیں پھر اسے صاف کرکے چھوڑتے ہیں حتی کہ وہ تیار ہوجاتی ہے پھر ہم اسے پی لیتے ہیں۔(کیا یہ درست ہے ) انھوں نے کاہ کہ مکروہ اور ناجائز ہے۔ مکروہ دو قسم کا ہوتا ہے مکروہ تحریمی اور مکروہ تنزیہی۔مکروہ تحریمی کرام کی طرح ہی ہوتا ہے۔اگر یہاں مکروہ سے مکروہ تحریمی ہو تو یہ صحیح ہے اور حضڑت ابراہیم کے سابقہ اقوال کے مطابق ہے۔اسی معنی کو ترجیح ہونی چاہیے کیونکہ شراب کی تلچھٹ بھی شراب کی طرح حرام ہے۔اس میں ھی شراب کے اثرات ہوتے ہیں لہذا جس نبیذ میں وہ شامل ہوگی وہ بھی حرام ہوگی کیونکہ شراب کا ایک قطرہ بھی حرام ہے۔اور اگر اس سے مکروہ تنزیہی مراد ہو کہ اس سے پرہیز بہتر ہے تو پھر یہ احناف کے مشہور قول کے مطابق ہوگا کہ شراب کے علاوہ دیگر نشہ آور مشروب نشے سے کم استعمال کیے جاسکتے ہیں۔