سنن النسائي - حدیث 5742

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ ذِكْرُ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الْأَنْبِذَةِ، وَمَا لَا يَجُوزُ صحيح أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ نَبِيذُ الزَّبِيبِ مِنْ اللَّيْلِ فَيَجْعَلُهُ فِي سِقَاءٍ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ فَإِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ الثَّالِثَةِ سَقَاهُ أَوْ شَرِبَهُ فَإِنْ أَصْبَحَ مِنْهُ شَيْءٌ أَهْرَاقَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5742

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل کون سی نبیذ پینیں جائز ہیں اور کون سی ناجائز؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انھون نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے منقیٰ کی نبیذ رات کو بنائی جاتی۔آپ اسے مشکیزے میں بناتے۔پھر اس دن اگلے دن اوراس سے اگلے دن تک پیتے رہتے۔جب تیسری رات ہوتی تو اسے پی لیتے یا کسی کو پلادیتے اور اگر صبح تک کچھ بچی رہتی تو اسے بہادیتے۔ رات کے وقت منقیٰ اگر پانی میں بھگویا جائے تو دن کے وقت وہ نبیذ بنتی ہے۔اس سے پہلے تو پھل الگ ہوتا ہے اور پانی الگ۔دن کے وقت منقیٰ کو پانی میں مل کر پھر کپڑے سے نچوڑ کر نبیذ تیار ہوتی ہے لہذا پہلی رات کو شمار نہیں کیا جائے گا۔اس کے بعد مزید دو دن اور دو رات تک اس کو رکھ کر پیا جاتا تھا۔تیسری رات شروع ہونے پر یا توا سے پی لیتے تھے یا اگر بچ رہتی تو بہادیتے۔ گویا مجموعی طور پر تین دن اور دو رات تک پی جاسکتی ہے۔