سنن النسائي - حدیث 5740

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ ذِكْرُ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الْأَنْبِذَةِ، وَمَا لَا يَجُوزُ صحيح أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُطِيعٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَشْرَبُهُ مِنْ الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ فَإِذَا كَانَ مَسَاءُ الثَّالِثَةِ فَإِنْ بَقِيَ فِي الْإِنَاءِ شَيْءٌ لَمْ يَشْرَبُوهُ أُهَرِيقَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5740

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل کون سی نبیذ پینیں جائز ہیں اور کون سی ناجائز؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے نبیذ بنایا جاتا تھا۔آپ اسےاگلے دن یا اس سے اگلے دن پی لیتے تھے۔جب تیسری رات کی شام ہوجاتی تو اگر برتن میں کچھ رہتا جو ابھی تک جو ابھی تک پیا نہ جا سکا ہوتاتو اسے بہادیا جاتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ایک دن رات کا ذکر ہے۔ممکن ہے کہ گرمی کے موسم میں جب اس کے نشہ آور ہونے کا خطرہ ہوتا تھا تو صڑف ایک دن رات پر اکتفا فرماتے ہوں گےاور سردیوں وغیرہ میں دودن یا تین دن تک پی لیتے ہوں گے نیز یہ نبیذ چمڑے کے مشکیزے میں بنایا جاتا تھا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں صراحت ہے اس لیے زیادہ دیر سے رہنے سے بھی نشے کا خطرہ نہیں ہوتا تھا بلکہ زیادہ سے زیادہ وہ ترش ہوسکتا تھا لہذا دونوں رواایت درست ہیں مقصود نشے سے بچاؤ ہے۔