سنن النسائي - حدیث 5735

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الْعَصِيرِ، وَمَا لَا يَجُوزُ صحيح الإسناد مقطوع أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَائِذٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْعَصِيرِ قَالَ اشْرَبْهُ حَتَّى يَغْلِيَ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5735

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل انگوروں کا جوس کس حال میں پینا جائز ہے اور کس میں ناجائز ؟ حضرت ہشام بن عائذ اسدی سے روایت ہے انھوں نے کہا میں نےحضرت ابراہیم (نخعی) سے انگوروں کے جوس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا جب تک اس میں جوش اور تغیر رونما نہ ہو تو اسے پی سکتا ہے۔ یہ حکم صرف انگوروں کے جوس سے خاص نہیں بلکہ ہر جوس کا یہی حکم ہے۔یا اس میں حفاظتی اجزاء شامل کیے جائیں مثلاً سکوائش جو سرکے کی طرح تلخ ہوجاتا ہے لیکن مخصوص دوائی کی وجہ سے اس میں جوش اور تغیر رونما نہیں ہوتا اور نشہ نہیں ہوتا؛لہذا اسکوائش کسی بھی پھل کا ہو اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔