سنن النسائي - حدیث 5720

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ ذِكْرُ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الطِّلَاءِ، وَمَا لَا يَجُوزُ صحيح أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ قَالَ كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَّا بَعْدُ فَاطْبُخُوا شَرَابَكُمْ حَتَّى يَذْهَبَ مِنْهُ نَصِيبُ الشَّيْطَانِ فَإِنَّ لَهُ اثْنَيْنِ وَلَكُمْ وَاحِدٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5720

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل کون سا طلاء پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز ہے؟ حضر ت عبداللہ بن یزید خطمی سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہم کو لکھا حمد وصلوۃ کے بعد تم انگور کے جوس کو اتنا پکاؤ کہ اس میں سے شیطان کا حصہ ہوجائے۔دو حصے اس کے ہیں ایک حصہ تمھارا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خط میں استعاراتی زبان استعمال فرمائی ہے۔شیطان کے حصے سے مقصود نشہ ہے یعنی دو حصے خشک کرو کیونکہ اس سے نشے کا امکان نہیں رہے گا۔