سنن النسائي - حدیث 5713

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ الْحَثُّ عَلَى تَرْكِ الشُّبُهَاتِ صحيح أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَاتٍ وَرُبَّمَا قَالَ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَةً وَسَأَضْرِبُ فِي ذَلِكَ مَثَلًا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَمَى حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَا حَرَّمَ وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى وَرُبَّمَا قَالَ يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ وَإِنَّ مَنْ خَالَطَ الرِّيبَةَ يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5713

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل مشتبہ چیز کو چھوڑدینے کی وعید کا بیان حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا بے شک حلال واضح ہے حرام واضح ہے اور کچھ چیزیں بین بین اور مشتبہ ہیں۔میں اس کی ایک مثال بیان کرتا ہوں اللہ تعالی نے ایک علاقہ ممنوع قراردیا ہے۔اور اللہ تعالی کا ممنوعہ علاقہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں)۔جو شخص اس ممنوع علاقے کے ارد گرد جانور چرائے گا خطرہ رہے گا کہ وہ ممنوع چراگاہ میں جا پڑیں گے۔اسی طرح جو شخص مشتبہ کاموں میں پڑے گا بہت ممکن ہے کہ حرام پر بھی جرات کرلے۔ یہ روایت اور اس سے متعلقہ مسائل پیچھے(حدیث 4458 میں ) گزرچکے ہیں۔اس جگہ اس حدیث کو ذکر کرنے سے امام ؒ کا مقصود یہ ہے کہ خمر تو قطعاً حرام ہے اور اس پر سب متفق ہیں۔عام نشہ آور مشروب بھی جمہور اہل علم کے نزدیک شراب کی طرح حرام ہے۔کچھ لوگ اسے تھوڑی مقدار میں جائز سمجھتے ہیں۔اسی طرح صحیح اور مشہور احادیث تواس کو حرام قراردیتی ہے البتہ بعض ضعیف اور غیر معروف روایات سے اس کی حلت کشید کی جاتی ہے لہذا یہ اگر حرام نہ بھی ہو تو مشتبہ ضرور ہے۔اور رسول اللہ ﷺ نے مشتبہ کے ترک کو بھی ضروری قراردیا ہے تاکہ حرام سے بچا جاسکے۔عام نشہ آور مشروب کا استعمال خمر تک لے جائے گا اور قلیل و کثیر کی دعوت دے گا اس لیے اس لحاظ سے بھی اس کا ترک ضروری ہے اور اس کی حلت کا فتویٰ نہیں دیا جاسکتا کیونکہ مشتبہ چیز حلال نہیں ہوتی بلکہ حلال اور حرام کے بین بین ہوتی ہے۔اہل فتوٰ ی اور تقوٰی کا اس پر اتفاق ہے۔