سنن النسائي - حدیث 5706

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ ذِكْرُ الْأَخْبَارِ الَّتِي اعْتَلَّ بِهَا مَنْ أَبَاحَ شَرَابَ السُّكْرِ ضعيف الإسناد أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ عَطِشَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ فَاسْتَسْقَى فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ مِنْ السِّقَايَةِ فَشَمَّهُ فَقَطَّبَ فَقَالَ عَلَيَّ بِذَنُوبٍ مِنْ زَمْزَمَ فَصَبَّ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ فَقَالَ رَجُلٌ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا وَهَذَا خَبَرٌ ضَعِيفٌ لِأَنَّ يَحْيَى بْنَ يَمَانٍ انْفَرَدَ بِهِ دُونَ أَصْحَابِ سُفْيَانَ وَيَحْيَى بْنُ يَمَانٍ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَكَثْرَةِ خَطَئِهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5706

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل وہ احادیث جن سے بعض لوگوں نے نشہ آور مشروب پینے کا جواز نکالا ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو کعبہ شریف کا طواف کرتے ہوئے پیاس لگ گئی۔آپ نے پانی مانگا تو آپ کے پاس مشکیزے میں سے نبیذ لائی گئی۔آپ نے اسے سونگھا تو تیوری چڑھائی اور فرمایا میرے پاس زمزم کے پانی کا ایک ڈول لاؤ۔ پھر آپ نے وہ پانی اس ڈالا اور نوش فرمالیا۔ایک آدمی آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول کیا یہ حرام ہے آپ نے فرمایا نہیں اور(امام نسائیؒ نے) فرمایا یہ حدیث بھی ضعیف ہے کیونکہ حضرت سفیان ثوری کے شاگردوں میں سے صرف یحییٰ بن یمان ہی اس کو بیان کرتا ہے۔یکن اس کا حافظہ خراب تھا اور وہ بہت غلطیاں کرتا تھا اس لیے اس کی بیان کردہ روایت قابل حجت نہیں۔ یہ پانچویں روایت جس سے احناف نے استدلال کیا ہے ۔دراصل یہ اور چوتھی روایت ایک ہی ہیں اور ہیں بھی دونوں ضعیف ۔استدلال یوں ہے کہ وہ نبیذ نشہ آور تھی۔آپ نے تیوری چڑھائی اور پانی ملایا حالانکہ ممکن ہے کہ وہ زیادہ گاڑھی ہو ہو اور زیادہ گاڑھی پسند نہ فرماتے ہوں یا اس کی بو ناگوار ہو۔پانی ملانے سے وہ پتلی ہوگئی اور اسے پینا آسان ہوگیا۔ناگوار بو بھی ختم ہوگئی۔کیا ضروری ہے کہ اس میں نشہ ہی مانا جائے اور پھر اس سے صحیح روایا ت کے خلاف استدلال کیا جائے خصوصاً جب کہ یہ روایت ضعیف بھی ہے۔اس قسم کی رواایت سے وہ مفہوم مراد لینا چاہیے جو صحیح ترین روایات کے مطابق ہو یا پھر انھیں چھوڑ دیا جائے جیسا کہ محدثین کا طریقہ ہے۔