سنن النسائي - حدیث 5695

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ ذِكْرُ الْأَخْبَارِ الَّتِي اعْتَلَّ بِهَا مَنْ أَبَاحَ شَرَابَ السُّكْرِ صحيح أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ وَهُوَ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا قُرَّةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ نَصْرٌ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ جَدَّةً لِي تَنْبِذُ نَبِيذًا فِي جَرٍّ أَشْرَبُهُ حُلْوًا إِنْ أَكْثَرْتُ مِنْهُ فَجَالَسْتُ الْقَوْمَ خَشِيتُ أَنْ أَفْتَضِحَ فَقَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ لَيْسَ بِالْخَزَايَا وَلَا النَّادِمِينَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ فَحَدِّثْنَا بِأَمْرٍ إِنْ عَمِلْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا قَالَ آمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَأَنْ تُعْطُوا مِنْ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5695

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل وہ احادیث جن سے بعض لوگوں نے نشہ آور مشروب پینے کا جواز نکالا ہے حضرت ابو جمرہ نے بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میری دادی میرے لیے ایک مٹکے میں نبیذ بناتی ہیں میں اسے پیتا ہوں تو وہ بالکل میٹھی ہوتی ہے لیکن اگر میں اسے زیادہ زیادہ مقدار میں پی لوں پھر لوگوں میں جا بیٹھوں تو مجھے خطرہ ہوتا ہے کہ میں (کوئی نامناسب بات کرکے) کہیں رسوا نہ ہوجاؤں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا خوش آمدید اس وفد کو جو نہ رسوا ہوئے اور نہ نادم۔ وہ کہنے لگے اللہ کے رسول ہمارے اور آپ کے درمیان مشرکین حائل ہیں۔ہم حرمت کے مہینوں کے علاوہ آپ تک نہیں پہنچ سکتے لہذا ہمیں کوئی ایسی جامع بات بتائیں جس پر عمل کرکے ہم جنت میں داخل ہوجائیں اور ہم اس کی طرف لوگوں کو بھی دعوت دیں۔آپ نے فرمایا میں تمھیں تین چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتاہوں میں تمھیں اللہ تعالی پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں ۔کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے انھوں نے کہا کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول ہی خوب جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں نماز قائم کرنا زکاۃ ادا کرنا اور یہ کہ تم غنیمت سے خمس (پانچواں حصہ ) حکومت کو دو۔اور میں تمھیں چار چیزوں سے منع کرتا ہوں اس نبیذ سے کو کدو کے برتن کھجور کی جڑ کے برتن روغنی مٹکے اور تارکول لگے ہوئے برتن میں بنائی جائے۔ 1۔اس روایت سے متعلقہ چند باتیں حدیث 5641 میں گزرچکی ہیں۔ 2۔ رسوا نہ ہو جاؤں یعنی دماغ صحیح کام نہیں کرتا۔گویا کچھ نہ کچھ نشہ ہوتا ہے۔ 3۔ نہ رسوا ہوئے نہ نادم اگر لڑائی میں شکست کے بعد مسلمان ہوتے تو شکست کی رسوائی اڑھانا پڑتی اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ لڑائی کی ندامت بھی ہوتی ۔اب اپنے آپ مسلمان ہوئے تو دونوں چیزوں سے محفوظ رہے۔ 4۔اس با ت میں اختلاف ہے کہ آپ نے ان کو کن چیزوں کا حکم دیا اور کن چیزوں سے منع فرمایا کیونکہ ظاہراً تو ایک چیز کے حکم کا ذکر ہے یعنی ایمان باللہ ۔اور ایک چیز سے منع کا ذکر ہے یعنی مندرجہ بالا برتنوں کی نبیذ سے ۔گویا باقی چیزوں کا ذکر نہیں بلکہ کسی اور روایت میں بھی ان کا ذکر نہیں۔بعض حضرات کے نزدیک وہ چیزیں وہی ہیں جو ایمان باللہ کی تفسیر ہیں مگر وہ تو چار ہیں جب کہ اقپر تین چیزوں کے حکم کاذکر ہے معلوم ہوتا ہے کہ شہادتین کو شمار نہیں کیا گیا کیونکہ وہ شہادتین تو ادا کر چکے تھے۔اسی طرح چار ممنوع چیزوں سے مراد چار برتن ہی ہیں۔واللہ اعلم۔ 5۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے جواب سے مقصود یہ ہے کہ ایسی نبیذ جس میں نشے کا چک یا امکان ہو نہیں پینی چاہیے چہ جائیکہ ایسی نبیذ پی جائے جو حقیقتاً نشہ آور ہو ۔