سنن النسائي - حدیث 5683

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ ذِكْرُ الْأَخْبَارِ الَّتِي اعْتَلَّ بِهَا مَنْ أَبَاحَ شَرَابَ السُّكْرِ ضعيف الإسناد أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ قُدَامَةَ الْعَامِرِيِّ أَنَّ جَسْرَةَ بِنْتَ دَجَاجَةَ الْعَامِرِيَّةَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ سَأَلَهَا أُنَاسٌ كُلُّهُمْ يَسْأَلُ عَنْ النَّبِيذِ يَقُولُ نَنْبِذُ التَّمْرَ غُدْوَةً وَنَشْرَبُهُ عَشِيًّا وَنَنْبِذُهُ عَشِيًّا وَنَشْرَبُهُ غُدْوَةً قَالَتْ لَا أُحِلُّ مُسْكِرًا وَإِنْ كَانَ خُبْزًا وَإِنْ كَانَتْ مَاءً قَالَتْهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5683

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل وہ احادیث جن سے بعض لوگوں نے نشہ آور مشروب پینے کا جواز نکالا ہے حضرت جسرہ بنت دجاجہ عامر یہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ سے کچھ لوگوں نے مسائل پوچھے۔تقریباً سب لوگ ان نبیذ کے بارے میں پوچھ رہے تھے کہ ہم صبح کے وقت کھجوروں کو بھگوتے (نبیذ بناتے) ہیں تو صبح کو پی لیتے ہیں۔تو میں نے ان کو فرماتے سنا میں کسی نشہ آور چیز کو حلال نہیں کہہ سکتی خواہ روٹی ہو خواہ وہ پانی ہو۔انھوں نے تین دفعہ فرمایا۔ 1۔اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ معمولی سی نشے والی چیز کو بھی جائز نہیں سمجھتی تھیں۔صبح کی نبیذ میں شام تک اور شام کی نبیذ میں صبح تک نشہ پیدا نہیں ہوتا مگر انھوں نے پھر بھی احتیاطاً تنبیہ فرمادی کہ نشہ نہیں ہونا چاہیے اس لیے ان سے مروی سابقہ مجہول روایت کسی صورت درست نہیں۔ 2۔ خواہ روٹی ہو یہ فرضی بات ہے ورنہ روٹی پانی میں نشہ ممکن ہی نہیں۔مبالغے میں یہ انداز مستعمل ہے۔