سنن النسائي - حدیث 5662

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ ذِكْرُ الرِّوَايَاتِ الْمُغَلَّظَاتِ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ صحيح أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ شَارِبُهَا حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5662

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل وہ روایات جن سے معلوم ہوتاہے کہ شراب پینا گناہ کبیرہ ہے حضرت ابو ہریرہ ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا ۔ جب شراب پنیےوالا شراب پیتا ہے تو ہ مو من نہیں رہتا ۔ جب چور چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔اور جب کوئی شخص ڈاکا ڈالتا ہے کہ لوگ دہشت سے دیکھتے رہ جاتے ہیں تو وہ مو من نہیں رہتا۔ (1)حدیث کامقصود ہے کہ یہ کام ایمان کےمنافی ہیں۔ ایمان ان کا موں کو گوار نہیں کر تا ، بلکہ وہ ان سےروکتاہے ۔ یہ مطلب نہیں کہ کافر ہو جاتا ہے کیونکہ کوئی بھی کبیرہ گنا ہ مسلمان کو کافر نہیں بناتا ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے ، حدیث:4873 (2)اس روایت سے شراب نوشی کبیرہ گنا ہ ثابت ہوتا ہے کیو نکہ اسے ایمان کے منافی بتلا یا گیا ہے ۔ ویسے بھی شراب پینا حد کو واجب کرتا ہے او رحد والا فعل قطعا گناہ کبیرہ ہو تاہے ۔ جس طرح زنا، چوری اورڈاکا کبائر میں شامل ہی اسی طرح شراب نوشی بھی کبیرہ گنا ہے۔ (3)’’دیکھتے رہ جاتے ہیں ،، یعنی بے بسی کی بنا پر مقابلہ نہیں کرسکتے ۔