سنن النسائي - حدیث 5648

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ تَفْسِيرِ الْأَوْعِيَةِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ زَاذَانَ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قُلْتُ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَوْعِيَةِ وَفَسِّرْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَنْتَمِ وَهُوَ الَّذِي تُسَمُّونَهُ أَنْتُمْ الْجَرَّةَ وَنَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَهُوَ الَّذِي تُسَمُّونَهُ أَنْتُمْ الْقَرْعَ وَنَهَى عَنْ النَّقِيرِ وَهِيَ النَّخْلَةُ يَنْقُرُونَهَا وَنَهَى عَنْ الْمُزَفَّتِ وَهُوَ الْمُقَيَّرُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5648

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل مذکورہ برتنوں کی تفسیر حضرت زادان سےروایت ہے کہ میں نےحضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے گذارش کی کہ مجھے کوئی ایسی چیز بیان فرمائے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان برتنو ں کے بارے میں سنی ہو ۔ اس کی وضاحت بھی فرمائے ۔ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم سے منع فرمایا اور اسے تم مٹکا کہتے ہو ۔ اوردباء سے منع فرمایا ،جسے تم کدو کا برتن کہتے ہو ۔اور نقیر سے منع فرمایا ۔ یہ کھجور کی جڑ ہوتی ہے جسے لوگ اندر سے کرید کرید کر برتن بنالیتے ہیں ،نیز آپ نے مزفت سے منع فرمایا اور یہ وہ برتن ہوتا ہے جسے تارکول یا لاکھ مل دی گئی ہو ۔ مذکورہ برتنوں کی حثییت کےمتعلق محقق بات تو حدیث :5646 کے تحت ذکر ہو چکی ہےمگر بعض ائمہ مجتہدین ،مثلا : امام احمد اور امام اسحاق اس بات کے قائل ہیں جو حضرت ابن عمر اور ابن عباس ؓ کےمذکورہ بالا فرامین سے ظاہر ہوتی ہے کہ ان برتنوں میں اب بھی نبیذ بنانا حرام ہے اور ان برتنوں میں بنائی ہوئی نبیذ پینی منع ہے ۔حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر ؓ کا مسلک بھی یہی معلوم ہوتا ہے مگر اس سے بعض دوسری روایات متروک ہو جائیں گی جو نسخ پر دلالت کرتی ہیں ۔ واللہ اعلم .