سنن النسائي - حدیث 5609

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ تَفْسِيرُ الْبِتْعِ، وَالْمِزْرِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَسُئِلَ فَقِيلَ لَهُ أَفْتِنَا فِي الْبَاذَقِ فَقَالَ سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذَقَ وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5609

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل بتع اور مزر کی تفسیر حضرت ابو الجویریہ نے کہا : میں نےسنا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا: باذق کے بارے میں فتوی دیجیے ۔انھوں نےفرمایا :حضرت محمد باذق سے پہلے تشریف لےگئے اور (یادرکھو ) جو چیز نشہ آور ہے ، حرام ہے ۔ (1) یہ حدیث صریح دلیل ہے کہ وہ شراب جسے باذق کا نام دیا جاتاہےاس کا پینا حرام ہے ۔ باذق کہتے ہیں انگوروں کا نچوڑا اور شیرہ جسے معمولی سا جو ش دے کر ہلکا سا پکا لیا جائے ۔اس طرح اس کا نشہ شدید ہو جاتا ہے ۔ (2) یہ حدیث مبارکہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی عظیم فقاہت کی دلی ہے کہ انھوں نے مسائل کو انتہائی مختصر مگر نہایت بلیغ وجامع جوا ب دیا ۔ بعد ازاں انھوں نے اس کے سامنے یہ اصول بیان فرمادیا کہ مااسکر فھو حرام یعنی جو چیز نشہ آور ہو وہ حرام ہے ۔ یہ بعینہ اسی طرح کی بات ہے جیسی مختصر بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی تھی ۔ (3) ’’تشریف لےگئے نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تو نہیں تھی ،نہ آپ اسے جانتے تھے مگر آپ نے ضابطہ بیان فرمادیا ہے کہ ہر نشہ آور چیزرحرام ہے ۔ (4) یہ تقریبا پینتیس روایات ہیں جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے اور مصنف کا مقصود بھی یہی ہے کہ شراب کی حرمت کی وجہ نشہ ہے ،لہذا جس چیز میں نشہ پایا جائے گا وہ شراب کیطرح قطعا حرام ہے ۔قلیل بھی اور کثیر بھی۔اور یہ بات عرفا ،عقلا اور شرعا بابکل واضح ہے ۔اور یہی مسلک ہے جمہور اہل علم اور صحابہ وتابعین کا ۔مگر احناف کو یہ سیدھی سادی بات سمجھ میں نہیں آتی اور وہ بھول بھلیوں میں پڑگئے ،حالانکہ احناف قیاس کے سب سے بڑے داعی ہیں اور وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ شراب کر حرمت کی قطعی وجہ نشہ ہے ۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ کسی اور چیز میں نشہ پایا جائے تو وہ شراب کیطرح حرام نہ ہو؟ شراب تو قلیل بھی حرام اور کثیر بھی لیکن دوسری نشہ آور اشیاء نشے سے کم کم حلال ؟ کیا اس کی کو ئی علی یا شرعی تو جیہ کی جاسکتی ہے ؟ ہر گز نہیں ، خصوصا قیاس کے داعی تو ایسا نہیں کر سکتے جب کہ بے شمار احادیث بھی صراحتا اس تفریق کے خلاف ہیں ۔ یہی بات سمجھا نے کے لیے مصنف ﷫ نے آئندہ باب بھی قائم فرمایا جس میں یہ مسئلہ صراحتا ذکر فرمایا ۔اللہ تعالی ہدایت دے ۔ آمین.