سنن النسائي - حدیث 5550

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ خَلِيطُ الْبَلَحِ وَالزَّهْوِ صحيح أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ وَالزَّهْوُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5550

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل بلح (کچی) اور زہو (پکنے کے قریب ) کھجور کی مشتر کہ نبیذ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن ،مٹکے ،تارکول لگے ہوئے برتن اور کھجور کی جڑ سے بنائے گئے برتن (میں نبیذ بنانے )سے منع فرمایا ہے ۔اسی طرح بلح اور زہو کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے ۔ (1) مذکورہ برتنوں میں مسام نہ ہونے یا مسام بند ہونے کی وجہ سے جلدی نشہ پیدا ہو جاتا ہے ، اس لیے ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔ یا یہ برتن شراب بنانے کے لیے استعمال ہوتے تھے ۔شراب کی حرمت کے وقت عارضی طور پر ان برتنوں کے جائز استعمال سے بھی روک دیا گیا تا کہ شراب کا خیال بھی نہ آئے ۔بعد میں یہ برتن استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ،البتہ احتیاط کی جائے کہ نشہ پیدا نہ ہو ورنہ مشروب حرام ہوجائے گا ۔نشہ پیدا نہ ہوتو کوئی حرج نہیں ۔ (2) بلح ،زہو، بسر ،رطب اور تمر کھجور ہی کی مختلف حالیتیں ہیں ۔ بلح کچی کھجور کو کہتے ہیں جب تک اس کا رنگ سبز ہو۔ بسر گدر ،یعنی نیم پختہ کھجور کو جب وہ کچھ نرم ہو جائے ۔زہو جب وہ پکنے لگے اور رنگ بدل جائے ۔رطب جب وہ مکمل پک جائے اور تازہ ہو ۔ اور تمر جب وہ خشک ہو جائے اور تری جاتی رہے ۔یہ تما م حالتیں ایک دوسری سے بہت مختلف ہیں ، لہذا ان کو الگ الگ پھل کا حکم دیا جائے گا ۔ اور ان میں کوئی سی بھی جوقسموں کی مشتر کہ نبیذ پینا منع ہے ۔