سنن النسائي - حدیث 5538

كِتَابُ الِاسْتِعَاذَةِ الِاسْتِعَاذَةُ مِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ حسن صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ عَنْ أَبِي خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ سَعِيدٌ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بَلْ سَمِعَهُ مِنْ أَخِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5538

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان ایسی دعا سے پناہ مانگنا جو سنی نہ جائے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اے اللہ !میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس علم سے جو فائدہ نہ دے اس دل سے جو اللہ تعالی کےسامنے عاجزی نہ کرے اس نفس سے جو سیرنہ ہو اوراس دعا سے جوقبول نہ ہو ۔ ‘‘ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمتہ اللہ ) نے فرمایا :سعید (مقبری) نے یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہین سنی بلکہ اس نے اپنے بھائی (عبادبن ابوسعید) سے سنی ہے اوراس (عباد) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (جیسا کہ اگلی روایت میں اس کی صراحت ہے )۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اے اللہ !میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس علم سے جو فائدہ نہ دے اس دل سے جو اللہ تعالی کےسامنے عاجزی نہ کرے اس نفس سے جو سیرنہ ہو اوراس دعا سے جوقبول نہ ہو ۔ ‘‘ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمتہ اللہ ) نے فرمایا :سعید (مقبری) نے یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہین سنی بلکہ اس نے اپنے بھائی (عبادبن ابوسعید) سے سنی ہے اوراس (عباد) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (جیسا کہ اگلی روایت میں اس کی صراحت ہے )۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اے اللہ !میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس علم سے جو فائدہ نہ دے اس دل سے جو اللہ تعالی کےسامنے عاجزی نہ کرے اس نفس سے جو سیرنہ ہو اوراس دعا سے جوقبول نہ ہو ۔ ‘‘ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمتہ اللہ ) نے فرمایا :سعید (مقبری) نے یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہین سنی بلکہ اس نے اپنے بھائی (عبادبن ابوسعید) سے سنی ہے اوراس (عباد) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (جیسا کہ اگلی روایت میں اس کی صراحت ہے )۔ 1۔ امام رحمہ اللہ کامقصد یہ بتانا ہے کہ یہ سند منقطع ہے تاہم روایت صحیح ہے کیونکہ اگلی روایت کی سند میں انقطاع ہے ۔ واللہ اعلم . 2۔ جو قبول نہ ہو مقصد یہ ہے کہ یا اللہ مجھے ان خرابیوں سے بچا جن کی بنا پر دعا قبول نہیں ہوتی مثلا رزق حرام عدم خلوص ناجائز دعا وغیرہ ۔ (باقی تفصیلات دیکھیے حدیث : حدیث نمبر5444