سنن النسائي - حدیث 553

كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ آخِرُ وَقْتِ الصُّبْحِ صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَا حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي صَدَقَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتَيْكُمْ هَاتَيْنِ وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ قَالَ عَلَى إِثْرِهِ وَيُصَلِّي الصُّبْحَ إِلَى أَنْ يَنْفَسِحَ الْبَصَرُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 553

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل صبح کی نماز کا آخری وقت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھتے تھے جب سورج ڈھلتا تھا۔ اور آپ عصر کی نماز تمھاری ان دو (ظہراورعصر) نمازوں کے درمیان میں پڑھتے تھے۔ اور مغرب کی نماز پرھتے جب سورج غروب ہوتا اور عشاء کی نماز پڑھتے جب سرخی غائب ہوجاتی۔ پھر انھوں نے اس کے بعد فرمایا کہ آپ صبح کی نماز سے اس وقت فارغ ہوتے جب نظر دور تک دیکھنے لگتی۔ (۱)اس دور میں لوگ عصر کی نماز تاخیر سے پڑھنے لگے تھے، اس لیے فرمایا کہ آپ کی عصر کی نماز تمھاری آج کل کی ظہر اور عصر کے درمیان ہوتی تھی، یعنی تمھاری موجودہ عصر سے بہت پہلے پڑھ لیتے تھے۔ (۲)’’نظر دور تک دیکھنے لگتی۔‘‘ یہ صبح کی نماز کا آخری وقت نہیں بلکہ آپ کی نماز کے اختتام کا وقت تھا، گویا صبح کی نماز کا مختار وقت ختم ہوجاتا۔