سنن النسائي - حدیث 5522

كِتَابُ الِاسْتِعَاذَةِ الِاسْتِعَاذَةُ مِنْ حَرِّ النَّارِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سِنَانٍ الْمُزَنِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا الصَّوَابُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5522

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان آگ کی تپش سے بچاؤ کی دعا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نےفرمایا :میں نے الو القاسم ﷺ کودوران نماز فرماتے سنا :’’اے اللہ !میں قبر کی آزمائش اورعذاب دجال کےفتنے زندگی اورموت کےفتنے اورجہنم کی تپش سے تیری پںاہ میں آتا ہوں ۔‘‘ ابو عبدلرحمن (امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ ) نے کہا :یہ درست ہے ۔ 1۔ حدیث :5517کےآخر میں امام نسائل رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ یہ خطا ہے یعنی سلیمان کے والد کانام یسار درست نہیں ۔ یہاں سند میں سلیمان کےوالد کانام سنان ذکرہوا امام صاحب رحمتہ اللہ اسے درست قرار دیتے ہیں ۔ 2۔ ابوالقاسم رسول اللہ ﷺکی کنیت مبارکہ تھی ۔یاتوآپ کےبڑے بڑے بیٹے کی نسبت سےیا آپ کےقاسم ہونے کی وجہ سے کہ آپ علم وحکمت تقسیم فرماتےتھے اوراللہ کےحکم سے غنیمت کامال بھی ۔ 3۔ جبریل ومیکائیل اوراسرافیل اللہ تعالی کےعظیم المرتبت فرشتے ہیں ۔ جواعلیٰ مرتبے کےساتھ ساتھ عظیم قوتوں کےمالک ہیں ۔ فرشتوں کےسردار ہیں ۔ دعا میں ان فرشتوں کےنام ذکر کرنے سےان کی عظمت کابیان مقصود ہے مگر یہ فرشتے اللہ تعالی کےحکم کےپابند ہیں ۔ اوراس کے بندے ہیں ......علیہم السلام ......