سنن النسائي - حدیث 5496

كِتَابُ الِاسْتِعَاذَةِ الِاسْتِعَاذَةُ مِنْ عَيْنِ الْجَانِّ صحيح أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَيْنِ الْجَانِّ وَعَيْنِ الْإِنْسِ فَلَمَّا نَزَلَتْ الْمُعَوِّذَتَانِ أَخَذَ بِهِمَا وَتَرَكَ مَا سِوَى ذَلِكَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5496

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان جنوں کی نظر بد سے بچنے کی دعا حضرت ابوسعید ﷜سے روایت ہے ‘انھوں نے فرمایا:رسول اللہﷺجن وانس کی نظر بد سے بچاؤ کی دعا کیا کرتے تھے ۔جب معوذتین (سورۂ فلق وناس)نازل ہوئیں تو آپ نے انھیں پڑھنا شروع کر دیااور دوسری پناہ والی دعائیں چھوڑ دیں۔ (1)یہ حدیث مبارکہ اس بات پردلالت کرتی ہے کہ جن ‘انسانوں کو ایذا دینے اور تکلیف پہنچانے کے لیے ان پر غلبہ و تسلط حاصل کر سکتے ہیں ‘لہذا انسانوں کو چاہیے کہ اپنے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں التجائیں کےتے رہا کریں تا کہ وہ خبیث و شریر جنوں کی شرارتوں سے محفوظ رہیں ۔(2)اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نظربد‘برحق ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ کسی انسان ہی کی نظر لگے بلکہ جنات کی نظر بھی لگ سکتی ہے ۔(3)معوذتین میں ہر قسم کے شر سے پناہ موجود ہے ‘لہذا یہ جامع ہیں ۔ان کی موجودگی میں دوسری معوذات کی ضرورت نہیں اگرچہ ان کے پڑھنے کی ممانعت بھی نہیں ہے ۔(4)نظر بد کا اثر صرف انسان پر نہیں بلکہ بسا اوقات جمادات پر بھی اس کا ایسا شدید اثر ہوتا ہے جو دواؤںوغیرہ سے ختم نہیں ہوتابلکہ معوذات کی ضرورت پڑتی ہے ۔اس اثر کی عقلی تو جیہ نہ بھی ہو سکے تو اس کا انکار ممکن نہیں ۔اس دنیا میں سب کچھ عقل کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ بہت سے مسائل میں انسان کی عقل دھنگ رہ جاتی ہے‘علوم جواب دے جاتے ہیں ۔مقناطیس کے ایک سرے کا شمال کی جانب ہی رہنابھی اس کی ایک مثال ہے ۔مگر اس کا انکار ممکن نہیں۔(5) راجح قول کے مطابق یہ روایت صحیح ہے ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے :(سنن ابن ماجہ مترجم (دارالسلام )‘حدیث:3511)