سنن النسائي - حدیث 5492

كِتَابُ الِاسْتِعَاذَةِ الِاسْتِعَاذَةُ مِنَ الْهَرَمِ حسن صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ اللَّيْثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5492

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان شدید بڑھاپے سے بچاؤ کی دعا حضرت عمر وبن شعیب کے پردادا محترم (حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص﷜)سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا:’’اے اللہ!میں کاہلی‘شدید بڑھاپے ‘جان نہ چھوڑنے والے قرض اور گناہ سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘نیز مسیح دجال کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔قبر کے عذاب سے بچاؤ کے لیے تیری یناہ کا طالب ہوں او رآگ کے عذاب سے بچنے کے لیے بھی تجھی سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘ ’’مسیح دجال‘‘مسیح در اصل حضرت عیسیٰ ﷤ کا لقب ہے مگر چونکہ یہ شخص ابتدا میں مسیح ہونے کا دعویٰ کرے گا اور یہودی اسے مسیح مانے گے ‘اس لیے اسے یوں کہا گیا لیکن اس سے وہ مسیح نہ بن جائے گا جس طرح کسی کو جھوٹانبی کہنے سے اس کی نبوت کی تصدیق نہیں ہوتی کیونکہ ’’مسیح دحال ‘‘کے معنیٰ ہیں فراڈکرنے والا اور دھوکہ باز مسیح ‘یعنی جھوٹا مسیح ۔دجال اس شخص کا نام نہیں ‘وصف ہے ۔(دیکھیےحدیث:5453) تعجب کی بات ہےیہودیوں نے حضرت عیسیٰ ﷤ کو تو مسیح نہ مانا ‘اس دغا باز کو مسیح مانیں گے ۔فلعنۃ اللہ علیھم