سنن النسائي - حدیث 5480

كِتَابُ الِاسْتِعَاذَةِ الِاسْتِعَاذَةُ مِنْ فِتْنَةِالدُّنْيَا صحيح أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُهُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ وَيَرْوِيهِنَّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5480

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان دنیا کے فتنے سے پناہ طلب کرنا حضرت مصعب بن سعد سے مروی ہے کہ (الد محترم )حضرت سعد ﷜اسے یہ کلمات سکھایا کرتے تھے اور انھیں نبئ اکرم ﷺسے بیان فرماتے تھے :’’اے اللہ!میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔میں بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔میں اس بات سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں کہ مجھے ذلیل ترین میں داخل کیا جائے ۔میں دنیا کے فتنے اور عذاب فبر سے تیری پناہ حاصل کرتا ہوں ۔‘ دنیا کے فتنے سے مراد یہ ہے کہ میں دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر آخرت سے غافل ہو جاؤں یا وہ تکالیف شاقہ مراد ہیں جو انسانی بس سے باہر ہوں ۔