سنن النسائي - حدیث 5452

كِتَابُ الِاسْتِعَاذَةِ الِاسْتِعَاذَةُ مِنْ الْهَمِّ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَوَاتٌ لَا يَدَعُهُنَّ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَالدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا الصَّوَابُ وَحَدِيثُ ابْنُ فُضَيْلٍ خَطَأٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5452

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان ۔فکر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ کچھ دعائیں رسول اللہﷺکی عادت بن چکی تھیں کبھی چھوڑتے تھے ۔’’اے اللہ !میں فکر و غم ‘عجز و سستی ‘بخل اور قرض‘نیز لوگوں کے غلبے سےتیری پناہ آتا ہوں۔‘‘امام ابو عبد الرحمٰن(نسائی ﷫) نے کہا یہ حدث درست ہے اور صحیح ہے جبکہ ابن فضیل کی (اس سے پہلی)حدیث غلط ہے ۔ قرض سے مراد وہ قرض ہے جو ادا نہ سکے بلکہ بڑھتا جائے ۔مقروض کے لیے ذلت اور بے عزتی کا سبب ہو ورنہ مطلق قرض تو رسول اللہﷺنے بھی لیا ہے اور اس سے مفر بھی نہیں ۔