سنن النسائي - حدیث 5445

كِتَابُ الِاسْتِعَاذَةِ الِاسْتِعَاذَةُ مِنْ فِتْنَةِ الصَّدْرِ ضعيف أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5445

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان سینے (دل)کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ کرنا حضرت عمر ﷜سے منقول ہے کہ نبئ اکرم ﷺبزدلی ‘بخل ‘سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب فرمایا کرتے تھے ۔ (1)باپ کا مقصد بالکل واضح ہے کہ مذکورہ تمام بیماریوں سے چھٹکارے کے لیے اللہ تعالیٰ کا سہارہ ضروری ہے ۔اللہ تعالیٰ کے سہارے کے بغیر کے ان ’’موذی اور مہلک ‘‘بیماریوں سے بچنابہت ہی مشکل کام ہے ۔ پھر جس سے یہ روحانی بیماریاں لگ جائیں تو اس کے لیے جہنم اور آگ کا عذاب ہے ۔اعا ذنا اللہ منہ.(2)رسول اللہ ﷺکا مذکورہ دعا پڑھنا اور امت کو اس کی تعلیم دینا صرف اس بنا پر تھا کہ امت کو عملاًیہ بتایا جائے کہہ ان کی تمام بیماریوں کا صرف اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنا ‘اس کا سہارہ لینا اور اس سے امان طلب کرنے ہی میں ہے ۔لوگ مصائب سے بچنے کےلیے تعویذوں اور خود ساختہ وظائف کا سہارہ لیتے ہیں ‘حالانکہ تمام مشکلات کا حل رسوللہﷺکے بتائے ہوئے اذکامیں ہے ۔انھی کو اختیار کرنا چاہیے تا کہ روحانی اور جسمانی بیماریوں سے چھٹکارہ حاصل ہو سکے -(3)بزدلی سے مراد اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان قربان کرنے سے بھاگنا ہے اور بخل سے مراد اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال کرنے سے کنی کترانا ہے ۔(4)سینے کے فتنے سے مراد شیطانی وساوس‘باطل عقائد اور دل کی خرابیاں ‘مثلاً:حسد ‘ کینہ بغض اور عناد وغیرہ ہیں ۔پیچھے یہ ہو چکا ہے کہ نبئ اکرمﷺکا استعاذہ اصل امت کی تعلیم کے لیے ہے ورنہ آپ تو رذائل سے قطعاًپاک و صاف تھے ۔آپ کے بارہ میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔