سنن النسائي - حدیث 5440

كِتَابُ الِاسْتِعَاذَةِ باب ما جاء في سورتي المعوذتين حسن صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عُقْبَةُ قُلْ فَقُلْتُ مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَكَتَ عَنِّي ثُمَّ قَالَ يَا عُقْبَةُ قُلْ قُلْتُ مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَكَتَ عَنِّي فَقُلْتُ اللَّهُمَّ ارْدُدْهُ عَلَيَّ فَقَالَ يَا عُقْبَةُ قُلْ قُلْتُ مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَقَرَأْتُهَا حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا ثُمَّ قَالَ قُلْ قُلْتُ مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ فَقَرَأْتُهَا حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ مَا سَأَلَ سَائِلٌ بِمِثْلِهِمَا وَلَا اسْتَعَاذَ مُسْتَعِيذٌ بِمِثْلِهِمَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5440

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان ان سورتوں کا بیان جن کے ذریعے سے پناہ پکڑی جاتی ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر ﷜سےروایت ہے ‘انھوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ نے فرمایا:’’اے عقبہ!پڑھ۔‘‘میں نے عرض کی :اے اللہ کے رسول!کیا پڑھوں ؟آپ حاموش ہو گۓ۔پھر فرمایا :’’اے عقبہ کہہ۔‘‘میں نے عرض کی:اے اللہ کے رسول !کیا کہوں ؟آپ پھر خاموش ہو گئے۔میں نے(دل میں)کہا :یااللہ!آپ کو میری طرف متوجہ فرما۔آپ نے فرمایا :’’اے عقبہ!پڑھ۔‘‘میں نے کہا اے اللہ کے رسول !میں کیا پڑھوں؟آپ نے فرمایا:’’سورۂ(قل اعوذ برب الفلق)میں نے سورت پڑھنا شروع کی حتی کہ مکمل کر دی۔پھر آپ نے فرمایا:’’پڑھ:‘‘میں نے کہا :اے اللہ کے رسول کیا پڑھوں ؟آپ نے فرمایا:’’سورۂ(قل اعوذ برب الناس ‎)۔‘‘اس وقت ےمیں نے آخر تک پوری پڑھ دی۔ پھر رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’کسی سوال کرنے والے نے ان جیسی سورتوں کے ساتھ سوال نہیں کیا اور نہ کسی پناہ طلب کرنے والے نے ان جیسی سورتوں کے ساتھ پناہ طلب کی ہے۔‘‘ خاموش ہو گئے ‘‘آپ کا ایک ہی بات فرمانا اور پھر خاموش ہو جانا مخاطب کے دل میں شوق او ر توجہ پیدا کرنے کے لیے تھا تا کہ اس کے نزدیک آئندہ بات کی اہمیت واضح ہو جائے۔