سنن النسائي - حدیث 5438

كِتَابُ الِاسْتِعَاذَةِ باب ما جاء في سورتي المعوذتين صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ الْعَلَاءُ عَنْ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عُقْبَةُ أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا فَعَلَّمَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ فَلَمْ يَرَنِي سُرِرْتُ بِهِمَا جِدًّا فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ يَا عُقْبَةُ كَيْفَ رَأَيْتَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5438

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان ان سورتوں کا بیان جن کے ذریعے سے پناہ پکڑی جاتی ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر نے فرمایاکہ میں ایک سفر میں رسول اللہﷺکی سواری کی لگام پکڑکر آگے آگے چل رہا تھا کہ رسول اللہ نے فرمایا:’’عقبہ !میں تجھ دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں جو کبھی پڑھی گئی ہوں ؟‘‘پھر آپ نے مجھے سورۂ(قل اعوذبرب الفلق)اور (قل اعوذ برب الناس)سکھائیں۔آپ نے محسوس فرمایا کہ میں یہ سورتیں سیکھ کر زیادہ خوش نہیں ہوا‘لہذا جب آپ صبح کی نماز کے لیے اترے تو یہ دونوں سورتیں صبح کی نماز میں لوگوں کی امامت کرواتے ہوئے پڑھیں۔جب رسول ا للہ ﷺنماز سے فارغ ہوئےتو میری طرف توجہ ہوئے اور فرمابا:’’اے عقبہ!تیر ا کیا خیال ہے ؟‘ ’’کیا خیال ہے ؟‘‘یعنی اب تجھے ان سورتوں کی اہمیت محسوس ہوئی؟