سنن النسائي - حدیث 5426

كِتَابُ آدَابِ الْقُضَاةِ الْقَضَاءُ فِيمَنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ ضعيف أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَابَّةٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَقَضَى بِهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5426

کتاب: قضا اور قاضیوں کے آداب و مسائل کا بیان جب کسی کے پاس دلیل (گواہ وغیرہ )نہ ہو تو (فیصلہ کیا ہو گا )؟ حضرت ابو موسیٰ ﷜ سے روایت ہے کہ دو آدمی نبی اکرمﷺ کے پاس ایک جانور کے بارے میں جھگڑتے ہوئے آئے ۔دلیل کسی کے پاس بھی نہیں تھی ۔آپ نے دونوں کو نصف نصف دے دیا ۔ ’’دلیل ‘‘مثلا :گواہ یا دستاویز وغیرہ۔ اسی طرح قبضہ بھی کسی کا نہیں تھا یا دونوں کا قبضہ تھا ۔قرائن بھی کسی ایک جانب کو ترجیح نہیں دیتے تھے۔ایسی صورت میں یہی فیصلہ ہو گا یا پھر قرعہ اندازی کی جائے گی جس پربھی فریقین راضی ہو جائیں یا جسے قاضی مناسب خیال کرے ۔