سنن النسائي - حدیث 5412

كِتَابُ آدَابِ الْقُضَاةِ بَاب صَوْنِ النِّسَاءِ عَنْ مَجْلِسِ الْحُكْمِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا وَأَمَرَ أُنَيْسًا أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5412

کتاب: قضا اور قاضیوں کے آداب و مسائل کا بیان عورتوں کو عدالتوں میں بلانے احتراز کرنا حضرت ابو ہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے بیان فرمایا کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مقدمہ لائے۔ ان میں سے ایک نے کہا: ہمارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیے۔ دوسرے شخص نے کہا، جو ان میں سے زیادہ سمجھ دار تھا: اے اللہ کے رسول! ضرور اور مجھے اجازت دیجیے کہ میں بات چیت کروں۔ (پھر اجازت ملنے کے بعد) اس نے کہا: میر بیٹا اس کا نوکر تھا۔ اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو رجم کی سزا ملے گی تو میں نے سو بکریوں اورا یک لونڈی کےت عوض (اپنے بیٹے) چھڑا لیا۔ پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں اور ایک سال کے لیےجلا وطن ہوگا۔ رجم تو اس کی بیوی ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ باقی رہی تیری بکریاں اور لونڈی، تو وہ تجھے واپس مل جائیں گی۔‘‘ پھر آپ نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا۔ اور آپ نے حضرت انیس کو حکم دیا کہ اس (دوسرے شخص) کی بیوی کے پاس جاؤ۔ اگر وہ (زنا کے جرم کو) تسلیم کرے تو اسے رجم کردو۔ عورت نے گنا ہ تسلیم کر لیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ 1۔ امام نسائی رحمہ اللہ علیہ نے جو عنوان قائم کیا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر عورت کو عدالت اور پنچائت وغیرہ میں لائے بغیر مسئلہ حل ہو سکتا ہو تو انہیں عدالتوں اور پنچائتوں وغیرہ میں نہیں گھسیٹنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس متعلقہ خاتون کو اپنے ہاں بلانے کی بجائے، اپنی طرف سے آدمی بھیج کر اس عورت سے حقیقت حال معلوم کی اور پھر اس کے اقرار کرنے پر اس پر زنا کی مذکورہ حد نافذ کی، یعنی اسے رجم کر دیا گیا۔ 2۔ اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہو اکہ اپنے تمام مسائل بالخصوص حدود سے متعلق معاملات میں قرآن کے فیصلے کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اور جب کوئی مجرم و ملزم اقرار جرم کر لے تو حاکم پر واجب ہے کہ وہ اس پر حد قائم کرے۔ ہمارے ہاں ملک کے صدر کو سزائے موت ختم کرنے اک جو اختیار ہے، شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ 3۔ اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہو اکہ معاملے کہ پختگی ظاہر کرنے کے لیے قسم کھانا درست ہے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ قسم کھانے کا مطالبہ نہ کیا گیا ہو تو بھی قسم کھائی جاسکتی ہے۔ 4۔ یہ حدیث مبارکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن خل اور عظیم حوصلے کی صریح دلیل ہے، نیز اس بات کی بھی دلیل ہے کہ مدعی، مستفتی (فتویٰ طلب کرنے والے) اور طلاب کے لیے مستحب بات یہ ہے کہ وہ قاضی، عالم دین اور حاکم کےپاس اپنا مسئلہ پیش کرنے پہلے اجازت طلب کرے، نیز معلوم ہوا کہ ظن و تخمین پر مبنی حکم اور فیصلہ قطعی اور یقینی دلائل و براہین کے آنے پر ختم ہوجائے گا، اس طرح خلاف شریعت کی گئی صلح مردود ہوگی اور اس سلسلے میں دیا گیا مال و متاع بھی واپس ہو جائے گا۔ 5۔ حد کے مقبلے میں فدیہ (مالی معاوضہ) شرعاً قابل قبول نہیں ہوگا اور نہ مالی معاوضۃ لے کر کوئی شرعی حد ساط کی جاسکتی ہے۔ اس پر اہل علم کا اجماع ہے بالخصوص زنا چوری اور شراب نوشی وغیرہ جرم کے مرتکب پر ھد قائم کی جائے گی… واللہ أعلم 6۔ ’’چھڑالیا‘‘ اس نے سمجھا کہ کسی کی بیوی سے زنا خاوند کی حق تلفی ہے، اس لیے اسے راضی کرلینا کافی ہے، حالانکہ یہ شرعی امر کی خلاف ورزی ہے جس کا تعلق معاشرے کے ساتھ ہے، لہٰذا یہ جرم خاوند کے معاف کرنے سے معاف نہیں ہوگا بلکہ مقدمہ عدالت میں آنے کے بعد لازماً سزا نافذ ہوگی۔ 7۔ ’’کوڑے لگائے‘‘ کیونکہ وہ خود معترف تھا۔ جرم ثابت ہو چکا تھا۔ امام مالک رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک جلاوطن کرنےکی بجائے جیل میں بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ اور یہ صحیح ہے۔ کیونکہ مقصود حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے گھر سے باہر رہے اور متعلقہ کی جگہ کے قریب نہ جائے۔ احناف کے نزیدیک جلاوطنی سزا کا حصہ نہیں۔ لہٰذا ضروری نہیں۔ لیکن صریح حدیث کی روشنی میں یہ مؤقف محل نظر ہے۔