سنن النسائي - حدیث 541

كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ الرُّخْصَةُ فِي أَنْ يُقَالَ لِلْعِشَاءِ الْعَتَمَةُ صحيح أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا وَلَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ وَلَوْ عَلِمُوا مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 541

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل عشاء کی نماز کو عتمہ(اندھیرے کی نماز)کہنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر لوگ اذان کہنے اور صف اول میں کھڑے ہونے کی فضیلت جان لیتے تو پھر قرعہ اندازی کے سوا کوئی چارۂ کار نہ پاتے اور ضرور (ان دو چیزوں کے لیے) قرعہ اندازی کرتے۔ اور اگر لوگ جان لیتے کہ ظہر کی نماز جلدی پڑھنے میں کیا فضیلت ہے تو ایک دوسرے سے آگے بڑھتے۔ اور اگر عتمہ (عشاء) اور صبح کی نماز کی فضیلت جانتے تو ضرور حاضر ہوتے، خواہ گھسٹ کر آنا پڑتا۔‘‘ (۱)اس حدیث سے اذان اور پہلی صف کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ ظاہر ہے آدمی صف اول میں تب ہی کھڑا ہوسکتا ہے جب وہ مسجد میں پہلے آئے گا اور یہ بذات خود ایک فضیلت والا کام ہے، نیز امام کے قریب کھڑا ہونے سے اسے قراءت اچھی طرح سننے کا موقع ملے گا اور نماز میں اس کی توجہ اور خشوع وخضوع زیادہ ہوگا۔ (۲)اس حدیث سے نماز عشاء اور فجر کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ ان میں مشقت زیادہ ہے، اس لیے کہ یہ نیند کے اوقات ہیں (۳)جائز امور میں قرعہ اندازی درست ہے۔