سنن النسائي - حدیث 5406

كِتَابُ آدَابِ الْقُضَاةِ نَقْضُ الْحَاكِمِ مَا يَحْكُمُ بِهِ غَيْرُهُ مِمَّنْ هُوَ مِثْلُهُ أَوْ أَجَلُّ مِنْهُ صحيح أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجَتْ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا وَلَدَاهُمَا فَأَخَذَ الذِّئْبُ أَحَدَهُمَا فَاخْتَصَمَتَا فِي الْوَلَدِ إِلَى دَاوُدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمَا قَالَتْ قَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى قَالَ سُلَيْمَانُ أَقْطَعُهُ بِنِصْفَيْنِ لِهَذِهِ نِصْفٌ وَلِهَذِهِ نِصْفٌ قَالَتْ الْكُبْرَى نَعَمْ اقْطَعُوهُ فَقَالَتْ الصُّغْرَى لَا تَقْطَعْهُ هُوَ وَلَدُهَا فَقَضَى بِهِ لِلَّتِي أَبَتْ أَنْ يَقْطَعَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5406

کتاب: قضا اور قاضیوں کے آداب و مسائل کا بیان ایک حاکم اپنے جیسے یا اپنے سے بڑے حاکم کے فیصلے کو توڑ سکتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ دو عورتیں (گھر سے) نکلیں۔ ان کے ساتھ ان کے دو نچے (بیٹے) بھی تھے۔ بھیڑیا ان میں سے ایک بچے کو پکڑ کر لے گیا۔ وہ دوسرے بچے کے بارے میں جھگڑا کرتی ہوئی حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس پہنچ گئیں۔ انہوں نے بچے کا فیصلہ ان میں میں سے بڑی کے حق میں دے دیا، پھر وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کےپاس سے گزریں تو انہوں نے پوچھا تمہارے درمیان کیا فیصلہ ہوا؟ چھوٹی نے کہا: بڑی کے حق میں فیصلہ ہوا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام فرمانے لگے: میں اس کو دو ٹکڑے کر دیتا ہوں۔ نصف اس کا نصف اس کا۔ بڑی کہنے لگی: ہاں ہاں، دو ٹکڑے کر دو۔ چھوٹی نے کہاں نہ نہ اسے دو ٹکڑے نہ کریں۔ یہ بچہ اسی کا ہے۔ پھر انہوں نے بچے کا فیصلہ اس کے حق میں کیا جس نے اس کو کاٹنے کی تجویز نہیں مانی تھی۔‘‘ 1۔ مذکورہ مفہوم کی ان احادیث اور ان میں بیان کردہ واقع سے معلوم ہوتا ہے کہ عقل و دانش اور فہم و فراست قطعی طور پر وہبی چیز ہے، اللہ تعالیٰ جسے چاہے عطا فرمادے۔ چھوٹی اور بڑی عمر یا امیری و فقیری اور اقتدار اختیار وغیرہ کااس سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ 2۔ یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحیح اور درست بات معلوم کرنے اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے حیلہ کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس حیلے کا مقصد احقاق حق یا ابطال باطل ہی ہو۔ باطل اور ناجائز کو درست اور جائز قرار دینے کے لیے حیلہ کرنا شرعاً مذموم اور حرام ہے۔ 3۔ اگر فریقین اپنے حق کے بارے میں دوبارہ کسی اور سے فیصلہ کرانے کے حق میں ہوں تو بڑی خوشی سے کرواسکتے ہیں، خواہ دوسرا قاضی پہلے کے برابر ہو یا اس سے کم مرتبہ ہو جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث سے واضح ہے، خصوصاً جب کہ دوسرے کے فیصلے کے بعد کسی اور کی طرف رجوع کرنا بے ایمانی کی دلیل ہے۔ 4۔ ’’بچہ اسی کا ہے‘‘ چونکہ اس قول کا مقصد صرف بچے کی جان بچانا تھا نہ کہ اقرار، اسی لیے حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کے اقراری کلام پر عمل نہیں فرمایا بلکہ بچہ اسی کو دے دیا کیونکہ ان کو حق معلوم ہو چکا تھا بلکہ ہر ایک کے لیے واضح ہو چکا تھا۔