سنن النسائي - حدیث 5403

كِتَابُ آدَابِ الْقُضَاةِ الْحُكْمُ بِالظَّاهِرِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُهُ بِهِ قِطْعَةً مِنْ النَّارِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5403

کتاب: قضا اور قاضیوں کے آداب و مسائل کا بیان فیصلہ ظاہر دلائل کی بنا پر کیا جائے گا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میرے پاس مقدمات لاتے ہو۔ میں بھی ایک انسان ہوں۔ ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی شخص اپنی دلیل کو فریق ثانی سے زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کر سکتا ہو، لہٰذا اگر میں (ظاہر دلائل کی بنا پر) کسی شخص کے لے اس کے بھائی کے حق کا فیصل کر دوں تو وہ اسے نہ لے۔ یوں سمجھے امیں اسے آگ کا ٹکڑا دے رہا ہوں۔‘‘ 1۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے جو عنوان قائم کیا ہے اس کا مقصد یہ اہم مسئلہ بیان کرنا ہے کہ قاضی اور جج ظاہری دلائل کے مطابق فیصلہ کرے گا، اس لیے اگر کسی قاضی یا حاکم وغیرہ نے غلط فیصلہ کر دیا تو غلط ہی ہوگا اور ناجائز بھی۔ کسی بھی شخص کے ناجائز فیصلہ کرنے سے وہ فیصلہ شرعی طور پر جائز قرار نہیں پاتا۔ قاضی، ثالث یا حاکم اور جج وغیرہ کے سامنے جس قسم کے دلائل ہوں گے، وہ انہیں کے مطابق فیصلہ صادر کریں گے، اس لیے ان کے فیصلہ کرنے سے نہ کوئی حرام کام حلال قرار پائے گا اور نہ حلال کام حرام ہی ہوگابلکہ اس کا وبال غلط دلائل مہیا کرنے والے کے سر ہوگا۔ 2۔ باطل پ ڈٹ جان، نیز باطل کی حمایت اور وکالت کرنا شرعاً حرام اور ناجائزہے۔ جو وکیل ناجائز اور باطل کیس لڑتا ہے اور ان کا معاوضہ لیتا ہے، وہ خود بھی حرام کھاتا اور اپنے اہل عیال کو بھی حرام ہی کھلاتا ہے۔ أعاذنا اللہ منہ 3۔ اس حدیث مبارکہ سے بی بھی معلوم ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑا مجتہد بھی غلطی کر سکتا ہے اور اس کی غلطی شرعاً غلطی ہی ہوگی، ظاہر دلائل کی وجہ سے وہ چیز حقیقت میں حلال یا حرام نہیں ہوگی، تاہم مجتہد کو اپنے اجتہاد اور کوشش کرنے کا اجر و ثواب ضرور ملے گا بشرطیکہ اس نے جان بوجھ کر غلطی نہ کی ہو۔ جانتے بوجھتے غلطی کرنے والا تو گناہ گار ہوگا۔ 4۔ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جس مسئلی کی بابت وحی نازل نہ ہوئی ہوتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بابت اپنے اجتہاد سے فیصلہ فرماتے ۔ واللہ أعلم 5۔ ’’انسان ہوں‘‘ دلائل سمجھنے میں غلطی لگ سکتی ہے۔ غیب دان نہیں کہ عین حقیقت پر پہنچ جاؤں۔ میں ظاہری دلائل کی بنا پر فیصل کر سکتا ہوں۔