سنن النسائي - حدیث 5398

كِتَابُ آدَابِ الْقُضَاةِ ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَقَ فِيهِ صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5398

کتاب: قضا اور قاضیوں کے آداب و مسائل کا بیان (راویوں کا ) اس حدیث میں ابو اسحاق پر اختلاف کر ذکر حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبیٔ اکرمﷺ کے پاس آکر کہا: میرا باپ بہت بوڑھا ہے۔ کیا میں اس کی طرف سے ح ج کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں۔ تو بتا اگر اس کے ذمے قرض ہوتا اور تو ادا کر دیتا اسے کفایت نہ کرتا؟‘‘ اس باب کی پہلی چار روایت میں سائل عورت ہے اورآخری چار روایات میں سائل مرد ہے جہ کہ واقعہ ایک ہی ہے۔ اسی طرح عام روایات میں سوال والد کے بارے میں کیا گیا ہے جبکہ روایت 5396 میں سوال والدہ کے بارے میں کیا گیا ہے ۔ تطبیق یوں ہے کہ کہ سائل آدمی تھا۔ اس کے ساتھ اس کی نوجوان بیٹی بھی تھی۔ پہلے بیٹی نے سوال کیا، پھراس شخص نے بھی کیا۔ سوال اس آدمی کے والد اور والدہ کے بارے میں تھا۔ لڑکی چونکہ انے باپ کی طرف سے سوال پوچھ رہی تھی، لہٰذا اس نے الفاظ اپنے والد والے ہی استعمال کیے۔ جبکہ جس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا تھا، وہ اس لڑکی کا دادا۔ ویسے بھی دادا کو باپ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اور یہ استعمال میں عام ہے۔ اس آدمی کے والدین دونوں بوڑھے تھے، لہٰذا سوال دونوں کے بارے میں کیا گیا۔ مسند ابو یعلی(حدیث:6731، بہ تحقیق حسین سلیم اسد) کی ایک روایت سے مذکورہ تطبیق کا اشارہ ملتا ہے کہ سائل مرد اور اس کی نوجوان بیٹی دونوں تھے۔ واللہ اعلم۔ بعض علماء محققین ترجیح کی طرف مائل ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جو روایات امام زہری کے واسطے سے مروی ہیں ان سب میں عورت ہی کا ذکر ہے۔ اور یہ بخاری و مسلم کی روایات ہیں، اس لیے انہیں ترجیح حاصل ہے۔ مقصد یہ ہے کہ سائلہ عورت ہی تھی، مرد نہ تھا، مرد کے ذکر والی روایت مرجوح ہیں۔ مزید دیکھیے: (تعلیقات سلفیہ، طبع جدید: 5/458)