سنن النسائي - حدیث 5394

كِتَابُ آدَابِ الْقُضَاةِ الْحُكْمُ بِالتَّشْبِيهِ وَالتَّمْثِيلِ وَذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ صحيح أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَوِي عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَأَخَذَ الْفَضْلُ يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا وَكَانَتْ امْرَأَةً حَسْنَاءَ وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ فَحَوَّلَ وَجْهَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5394

کتاب: قضا اور قاضیوں کے آداب و مسائل کا بیان مشابہت اور قیاس کے ساتھ فیصلہ کرنا اور ابن عباس کی حدیث میں (راویوں کا) ولید بن مسلم پر اختلاف حضرت ابن عباس﷠ نے فرمایا کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالی کا اس کے بندوں پر فریضۂ حج میرے والد پر اس وقت فرض ہوا جبکہ وہ بہت بوڑھے ہیں۔ سواری پر نہیں بیٹھ سکتے۔ اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو کیا ان کی طرف سے ادائیگی ہو جائے گی؟ رسو اللہﷺ نے اسے فرمایا: ’’ہاں‘‘ فضل﷜ اس کی طرف دیکھنے لگے کیونکہ وہ خوب صورت عورت تھی (اور فضل بھی ایسے ہی تھے) رسول اللہﷺ نے فضل کا چہرہ پکڑ کر دوسری طرف پھیر دیا۔ 1۔ معلوم ہوا کہ بدنی استطاعت نہ ہو لیکن مالی لحاظ سے حج فرض ہوتا ہو تو اپنی جگہ کسی دوسرے کو حج کروئے جو اس کی طرف سے حج کرے۔ 2۔ اس حدیث مبارکہ سے یہ اہم مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عالم اور امام و حاکم کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ منکر اور غیر شرعی کام کو روکے۔ ممکن ہو تو ہاتھ سے روکے جیسا کہ رسول اللہﷺ نے حضرت نے حضرت فضل﷜ کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا تھا۔