سنن النسائي - حدیث 539

كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ آخِرُ وَقْتِ الْعِشَاءِ صحيح أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثُمَّ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَأَنْتُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمْ الصَّلَاةَ وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسَقَمُ السَّقِيمِ لَأَمَرْتُ بِهَذِهِ الصَّلَاةِ أَنْ تُؤَخَّرَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 539

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل عشاء کی نماز کا آخری وقت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف نہیں نکلے حتیٰ کہ رات کا کافی حصہ گزرگیا، پھر آپ تشریف لائےا ور انھیں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو) نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ’’لوگ تو نماز پڑھ کر سوگئے مگر تم نماز ہی میں رہے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے اور اگر کمزور کی کمزوری اور بیمار کی بیماری مدنظر نہ ہوتی تو میں اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا۔‘‘