سنن النسائي - حدیث 5389

كِتَابُ آدَابِ الْقُضَاةِ إِذَا حَكَّمُوا رَجُلًا فَقَضَى بَيْنَهُمْ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِيهِ هَانِئٍ أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَهُ وَهُمْ يَكْنُونَ هَانِئًا أَبَا الْحَكَمِ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ فَقَالَ إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ قَالَ مَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا فَمَا لَكَ مِنْ الْوُلْدِ قَالَ لِي شُرَيْحٌ وَعَبْدُ اللَّهِ وَمُسْلِمٌ قَالَ فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ قَالَ شُرَيْحٌ قَالَ فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ فَدَعَا لَهُ وَلِوَلَدِهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5389

کتاب: قضا اور قاضیوں کے آداب و مسائل کا بیان جب لوگ کسی شخص کو اپنا فیصل مقرر کریں اور وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے (تو یہ اچھی بات ہے) حضرت ہانی﷜ سے منقول ہے کہ جب وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے لوگوں کو اسے ابو الحکم کی کنیت سے پکارتے سنا۔ رسول اللہﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا: ’’اصل حکم تو اللہ تعالیٰ ہے اور اسی کا فیصلہ چلتا ہے۔ پھر تجھے ابو الحکم کیوں کہا جاتا ہے۔؟ اس نے کہا: میری قوم میں جب کوئی اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں۔ میں ان میں فیصلہ کر دیتا ہوں جسے وہ دونوں فریق پسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ تیرے کتنے لڑکے ہیں‘‘ میں نے کہا: شریح، عبد اللہ اور مسلم۔ آپ نے فرمایا: ’’تیری کنیت آج سے ابو شریح ہے۔‘‘ پھر آپ نے اس کے لیے اور اس کی اولاد کے لیے دعا فرمائی۔ 1۔ اس حدیث مبارکہ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ثالث کا کیا ہوا صحیح اور درست فیصلہ نافذ ہونا چاہیے کیونکہ رسول اللہﷺ نے حضرت ہانی﷜ کے فعل کی تحسین فرمائی ہے۔ 2۔ بڑے بیتے کے نام پر کنیت رکھنا مستحب ہے کیونکہ بڑا ہونے کی وجہ سے یہ اس کا حق بنتا ہے۔ 3۔ اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قبیح اور برے نام کو بدل دینا مستحب اور پسندیدہ شرعی عمل ہے، نیز یہ حدیث مبارکہ اس مسئلے کی طرف راہ نمائی بھی کرتی ہے کہ ’’ابو الحکم‘‘ کنیت رکھنے احتراز کرنا چاہیے، اس لیے کہ عربی میں حکم فیصلہ کرنے والے کو کہتے ہیں۔ ابو الحکم سے مراد ہے سب سے بڑا فیصل ہ کرنے والا۔ ظاہر ہے اس میں فخر اور تعلی کا اظہار ہے جسے شریعت مناسب نہیں سمجھتی، اس لیے آپ نے اس کنیت کو حقیقی کنیت سے تبدیل فرمادیا۔ 4۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔‘‘ عربی جملے کے لفظی معنی ہیں: ’’اس سے اچھی کوئی بات نہیں۔‘‘ مفہوم وہی ہے۔