سنن النسائي - حدیث 5385

كِتَابُ آدَابِ الْقُضَاةِ بَاب تَرْكِ اسْتِعْمَالِ مَنْ يَحْرِصُ عَلَى الْقَضَاءِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا قَالَ إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5385

کتاب: قضا اور قاضیوں کے آداب و مسائل کا بیان جو شخص عہدۂ قضا کا طالب اور حریص ہو، اسے قاضی مقرر نہ کیا جائے حضرت اسید بن حضیر﷜ سے منقول ہے کہ ایک انصاری رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہا کیا آپ مجھے عامل مقرر نہیں فرمائیں گے جس طرح فلاں کو مقرر فرمایا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’میرے بعد تم محسوس کروگے کہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جارہی ہے، تو تم صبر کرنا حتیٰ کہ مجھے حوض پر ملو۔‘‘ 1۔ حدیث مبارکہ انصار کی منقبت و عظمت پر دلالت کرتی ہے کہ نبیٔ اکرمﷺ نے ان کی مدح فرمائی ہے، نیز آپ نے انہیں صبر کی تلقین بھی فرمائی۔ 2۔ یہ حدیث مبارکہ اعلام نبوت میں سے ایک بہت بڑی نشانی بھی ہے کہ جس طرح آپ نے پیش گوئی فرمائی تھی بعد ازاں اسی طرح ہوا۔ 3۔ ہر شخص کو عہدے پر مقرر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اسامیں اتنی نہیں ہوتیں، لہٰذا دوسرے لوگوں کو حسد اور بغاوت کا اظہار نہیں کرنا چاہیے بلکہ صبر کرنا چاہیے ورنہ افراتفری پھیل سکتی ہے۔ 4۔ ’’تم محسوس کروگے‘‘ تم سے مراد عام لوگ بھی ہو سکتے ہیں اور خصوصا! انصار بھی کیونکہ بعد میں حکومت قریش کے پاس ہی رہی اور سرکاری عہدوں پر عموماً قریشی ہی فائز رہے۔ 5۔ ’’حتیٰ کہ مجھے حوض پر ملو‘‘ یعنی صبر کے نتیجے میں تمہیں حوض کو ثر نصیب ہوگا۔ یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ’’صبر کرنا تا کہ تمہیں حوض کوثر نصیب ہو‘‘ اور میرا دیدار حاصل ہو جب کہ لڑائی جھگڑے کی صورت میں دونوں چیزوں سے محرومی ہو سکتی ہے۔