سنن النسائي - حدیث 5379

كِتَاب الزِّينَةِ الْجُلُوسُ عَلَى الْكَرَاسِيِّ صحيح أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ خِلْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّهَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5379

کتاب: زینت سے متعلق احکام و مسائل کرسی پر بیٹھنے کا بیان حضرت ابو رفاعہ﷜ نے فرمایا: میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ خطاب فرمارہے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک اجنبی آدمی آیا ہے، اپنے دین کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ دین کیا ہوتا ہے؟ رسول اللہﷺ متوجہ ہوئے، اپنا خطبہ چھوڑ اور میرے پاس پہنچ گئے۔ آپ کے پاس ایک کرسی لائی گئی میرا خیال ہے کہ اس کے پائے لوہے کے تھے۔ رسول اللہﷺ اس پر تشریف فرما ہوگئے۔ اور مجھے وہ علم سکھانے لگے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایاتھا، پھر خطبے کی جگہ تشریف لے گئے اور اپنا خطبہ مکمل فرمایا۔ ۔ یہ حدیث مبارکہ رسول اللہﷺ کی تواضع عالی ظرفی اور اہل اسلام کے ساتھ آپ کی بے پناہ محبت و شفقت کی دلیل ہے، نیز اس سے یہ معلوم ہوا کہ اہل علم کو سائلین اور طلبہ علم کے ساتھ انتہائی نرمی اور شفقت کا رویہ اپنانا چاہیے۔ علم کے پیاسوں کی علمی پیاس بجھانی چاہیے اور فتویٰ طلب کرنے والوں کو کتاب و سنت کے مطابق صحیح اور درست فتویٰ دے کر ان کی کما حقہ دینی رہنمائی کا فریضہ سر انجادم دینا چاہیے جیسا کہ رسول اللہﷺ نے اپنا خطبہ مبارک ادھورا چھوڑ کر سائل کی علمی پیاس اور تشنگی بجھائی، اسے قرآن و ھدیث کا علم سکھایا اور بعد ازاں اپنا خطبہ مکمل فرمایا۔ فِدَاه أبي و نفسي و روحي۔ 2۔ باب كا مقصود یہ ہے کہ کرسی پر بیٹھنا جب کہ دیگر لوگ نیچے بیٹھے ہوں، منع نہیں، اگر اس کی ضرورت ہو، مثلاً: خطاب کرنا تا کہ سب لوگ سننے کے ساتھ ساتھ آسانی سے دیکھ بھی سکیں، ویسے بھی کرسی پر بیٹھنا تکبر کو مستلزم نہیں۔