سنن النسائي - حدیث 5374

كِتَاب الزِّينَةِ اتِّخَاذُ الْخَادِمِ وَالْمَرْكَبِ حسن أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ سَهْمٍ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ طَعِينٌ فَأَتَاهُ مُعَاوِيَةُ يَعُودُهُ فَبَكَى أَبُو هَاشِمٍ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ مَا يُبْكِيكَ أَوَجَعٌ يُشْئِزُكَ أَمْ عَلَى الدُّنْيَا فَقَدْ ذَهَبَ صَفْوُهَا قَالَ كُلٌّ لَا وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَبِعْتُهُ قَالَ إِنَّهُ لَعَلَّكَ تُدْرِكُ أَمْوَالًا تُقْسَمُ بَيْنَ أَقْوَامٍ وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَدْرَكْتُ فَجَمَعْتُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5374

کتاب: زینت سے متعلق احکام و مسائل نوکر اور سواری رکھنا حضرت سمرہ بن سہم سے روایت ہے کہ میں حضرت ہاشم عتبہ ﷜ کا مہمان بنا۔ ان کو طاعون کا عرضہ لاحق ہوچکا تھا۔ ھضرت معاویہ﷜ ان کی بیمارپرسی کے لیے آئے تو حضرت ابو ہاشم رونے لگے۔ حضرت معاویہ﷜ نے فرمایا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا کوئی تکلیف آپ کو بے چین کر رہے ہے؟ یا دنیا (سے جانے) کا غم ہے جب کہ آپ کی دنیا کا بہترین حصہ گزر چکا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ان دونوں میں سے کوئی نصیحت فرمائی تھی۔ کاش میں اس پر قائم رہتا آپﷺ نے فرمایا تھا: شاید تجھ پر وہ دور آئے جب لوگوں میں بے تحاشا مال تقسیم کیے جائیں گے۔ تجھے صرف ایک نوکر اور ایک سواری جہاد کے لیے کافی ہے۔ ‘‘ (واقعتاً وہ دور یا مال) میں نے پایا لیکن میں نے زیادہ مال جمع کر لیا۔ 1۔ امام نسائی﷫ نے جو عنوان قائم کیا ہے اس کا مقصد یہ مسئلہ بیان کرنا ہے کہ آدمی نوکر اور سواری رکھ سکتا ہے۔ یہ عیش عشرت یا عیاشی کے قبیل سے نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔ 2۔ یہ حدیث مبارکہ دنی، اس کی رنگینیوں، نیز دنیا کی نعمتوں اور اس کا زیادہ مال و متاع جمع کرنے سے بے رغبتی پر دلالت کرتی ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ایک بندۂ مومن کی کوشش دنیا کمانے کی بجائے آخرت کمانے کی ہوتی ہے اور اس کی اصل ترجیح اس فانی دنیا کی نعمتوں کا حصول نہیں بلکہ ابدی و دائمی اور لازوال اخروی نعمتوں کا حصول ہی ہوتی ہے حرام اور ناجائز کمائی کے ڈھیر جمع کرنے کی بجائے تھوڑی لیکن حلال اور پاکیزہ کمائی پر توجہ دینا ہی فرض ہے۔ اس کی واضح دلیل حضرات صحابۂ کرام﷢ کا انداز حیات ہے۔ اللّهُمَّ وَفقنا لما تحِبُّه و تر ضاه 3۔ ’’بہترین حصہ‘‘ یعنی رسول اللہﷺ کی رفاقت یا جوانی والا۔ 4۔ ’’مال‘‘ یعنی غنیمتیں زیادہ ہوں گی۔ 5۔ ’’جمع کرلیا‘‘ یہ ان کی کسر نفسی تھی ورنہ انہوں نے کوئی ترکہ نہیں چھوڑا تھا۔ رضي الله عنه وأرضاه۔