سنن النسائي - حدیث 537

كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ آخِرُ وَقْتِ الْعِشَاءِ صحيح أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ح و أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومِ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى وَقَالَ إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 537

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل عشاء کی نماز کا آخری وقت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز کو مؤخر فرمایا حتیٰ کہ بہت رات گزر گئی اور مسجد والے (خصوصاً عورتیں اور بچے) سوگئ، پھر آپ تشریف لائے اور نماز پڑھائی اور فرمایا: ’’بلاشبہ یہی ہے اس کا (اصل) وقت اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خطرہ نہ ہوتا۔‘‘ ’’بہت رات‘‘ اس سے مراد اکثر رات نہیں کیونکہ نصف رات کے بعد تو وقت جواز نہیں رہتا۔ صحیحین (بخاری و مسلم) کی احادیث میں صراحت ہے کہ نصف رات ختم نہ ہوئی تھی۔ دیکھیے: (صحیح البخاری، مواقیت الصلاۃ، حدیث:۶۰۰، وصحیح مسلم، المساجد، حدیث:۶۴۰) لہٰذا اس سے مراد رات کا کافی حصہ ہے۔ اصل وقت سے مراد یہ ہے کہ اگر نیند کا لحاظ نہ رکھا جائے تو نماز آدمی رات کو ہونی چاہیے تھی، جس طرح ظہر کی نماز دوپہر کو ہوتی ہے، مگر نیند کا لحاظ رکھتے ہوئے اب اس کا افضل وقت تہائی رات تک ہے۔