سنن النسائي - حدیث 5318

كِتَاب الزِّينَةِ ذِكْرُ النَّهْيِ عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَنَّهُ رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُعَصْفَرَانِ فَقَالَ هَذِهِ ثِيَابُ الْكُفَّارِ فَلَا تَلْبَسْهَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5318

کتاب: زینت سے متعلق احکام و مسائل معصفر (کسم سے رنگے ہوئے) کپڑے پہننے کی ممانعت حضرت عبد اللہ بن عمرو﷜ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ نے انہیں معصفرکپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ’’یہ تو کافروں کالباس ہے ۔ تو نہ پہن۔‘‘ معصفر سےمراد وہ کپڑا ہے جسے عصفر یعنی کسنبے سے رنگا گیا ہو ۔ یہ زرد سرخ سا رنگ ہوتا ہے دیکھنے میں عجیب سا لگتا ہے ۔ مردوں کی مردانگی کے خلاف ہے ۔ باوقار نہیں اس لیے آپ نے اس سے منع فرمایا۔ حضرت ابن عمر﷜سے اس رنگ کے کپڑے پہننا مذکورہے ہے ۔ ممکن ہے ان کو نہی کا علم نہ ہو ۔