سنن النسائي - حدیث 531

كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَأْخِيرِ الْعِشَاءِ صحيح أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عَوْفٍ عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي أَخْبِرْنَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ قَالَ كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَكَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ قَالَ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ قَالَ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ تُؤَخَّرَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ قَالَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 531

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا مستحب ہے حضرت سیار بن سلامہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے والد محترم، حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ میرے والد محترم نے ان سے کہا: بتائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازیں کیسے پڑھتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کی نماز (ظہر)، جسے تم اولیٰ (پیشین) کہتے ہو، اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا اور عصر کی نماز اس وقت پڑھتے کہ ہم میں سے کوئی شخص (آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعد) مدینے کی انتہائی دور والی مضافاتی بستی میں اپنے گھر کو جاتا تھا تو اس وقت بھی سورج زندہ ہوتا تھا اور میں بھول گیا کہ مغرب کے بارے میں آپ نے کیا فرمایا؟ اور آپ عشاء کی نماز، جسے تم عتمہ کہتے ہو، دیر سے پڑھنا اچھا سمجھتے تھے اور عشاء کی نماز سے پہلے سونا اور بعد میں باتیں کرنا ناپسند فرمات تھے اور صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو آدمی اپنے ہم نشیں کو پہچان سکتا تھا اور آپ ساٹھ سے سو آیات تک نماز میں تلاوت فرماتے تھے۔ فوائد کے لیے دیکھیے حدیث:526