سنن النسائي - حدیث 5287

كِتَاب الزِّينَةِ مَوْضِعُ الْخَاتَمِ صحيح أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسًا عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُسْرَى الْخِنْصَرَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5287

کتاب: زینت سے متعلق احکام و مسائل انگوٹھی کی جگہ ( کس انگلی میں ہے ؟) حضرت ثابت بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت انس ﷜ سے رسول اللہ ﷺ کی انگوٹھی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا :مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے میں آپ کی چاندی والی انگوٹھی کی چمک اب بھی دیکھ رہا ہوں ۔ ( یہ کہتے ہوئے ) انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کو اٹھایا ۔ ’’اٹھایا ‘‘ ان کا مقصد یہ بتانا تھا کہ آپ بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں انگوٹھی پہنتے تھے لیکن دیگر کثیر روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے کیونکہ یہ زینت ہے اور آپ اچھے امور میں دائیں ہاتھ کو ترجیح دیتے تھے خصوصاً جب کہ آپ کی انگوٹھی پہنتے تھے کیونکہ یہ زینت ہے اور آپ اچھے امورمیں دائیں ہاتھ کو ترجیح دیتے تھے خصوصاً جب کہ آپ کی انگوٹھی میں اللہ تعالیٰ اور خود آپ کانام نامی تھا اوربایاں ہاتھ تو استنجا وغیرہ میں استعمال ہوتاہے ۔ کیا ایسے متبرک اور مقدس نام استنجا والے ہاتھ کے لائق ہے ؟ ہر گز نہیں۔ ہاں ! یہ ممکن ہے کہ کبھی کبھار بائیں ہاتھ میں ڈالی گئی ہو ۔ ویسے بھی عموماً کام دائیں ہاتہ سے کیے جاتے ہیں ۔ آپ مہر لگانے کےلیے انگوٹھی پہنتے تھے اور مہر لگانا بھی ایک کام ہے لہذا یہ بھی دائیں ہاتھ ہی سے ہونا چاہیے اور بہ تبھی ہوگا اگر انگوٹہی دائیں ہاتھ میں ہو ۔