سنن النسائي - حدیث 528

كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ تَعْجِيلُ الْعِشَاءِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ قَالَ قَدِمَ الْحَجَّاجُ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ الشَّمْسُ وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا كَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدْ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 528

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل عشاء کی نماز کو جلدی پڑھنا حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر کے وقت پڑھتے تھے اور عصر کی نماز پڑھتے تو سورج (زردی سے) صاف اور سفید ہوتا تھا اور مغرب کی نماز پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا اور عشاء کی نماز (مختلف اوقات میں پڑھتے۔) جب دیکھتے کہ سب جمع ہوگئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے اور جب دیکھتے کہ انھوں نے تاخیر کی ہے تو دیر سے پڑھتے۔ (۱)[الھاجرۃ] ’’نصف النہار‘‘ سے مراد زوال کے فوراً بعد ہے۔ (۲)عشاء کی نماز میں ثلث لیل (تہائی رات) تک تاخیر مستحب ہے مگر نمازیوں کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر لوگ کام کاج والے ہوں جنھیں جلدی نیند آجاتی ہے تو اول وقت میں پڑھ لی جائے تاکہ وہ نماز باجماعت سے محروم نہ ہوں۔ اگر فارغ قسم کے لوگ ہیں جو دیر سے سوتے ہیں تو ثلث لیل تک تاخیر کرلی جائے، مزید مجبوری ہو تو نصف رات تک تاخیر کرلیں۔ اس سے زیادہ تاخیر تو صرف اضطراری حالت ہی میں ہوسکتی ہے، مثلاً: کسی کو نیند آگئی اور وہ سویا رہ گیا اور نماز نہ پڑھی گئی تو وہ صبح تک پڑھ لے۔ گویا وقت مستحبات ثلث لیل تک، وقت جواز نصف لیل تک اور وقت اضطرار فجر طلوع ہونے تک ہے۔ واللہ اعلم۔