سنن النسائي - حدیث 5260

كِتَاب الزِّينَةِ الطِّيبُ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطِيبٍ لَمْ يَرُدَّهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5260

کتاب: زینت سے متعلق احکام و مسائل خوشبو کا بیان حضرت انس بن مالک ﷜ نے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس جب خوشبو کا تحفہ لایا جاتا توآپ اسے رد نہیں فرماتے تھے ۔ 1۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خوشبو استعمال کرنا پسندیدہ عمل ہے نیز کوئی شخص خوشبو کا ہدیہ دے تو اسے قبول کر لینا چاہیے رد نہیں کرنا چاہیے ۔ ایک دوسری حدیث میں خوشبو کےساتھ دو اور چیزوں کا بھی ذکر ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : [ثلاث لا ترد: الوسائد والدهن واللبن ] الدهن : يعنى به الطيب] ( جامع الترمذى ، الأدب ،حديث :2790)’’تین چیزوں ایسی ہیں کہ ( کسی کو ہدیتاً دی جائیں تو ) وہ ردنہ کی جائیں : سرہانہ و تکیہ ( گدوغالیچہ ) تیل اور دودھ ۔ ‘‘ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ تیل سے مراد خوشبو ہے ۔ 2۔ رسول اللہ ﷺ کو خوشبو سے خصوصی لگاؤ تھا کیونکہ آپ کے پاس فرشتوں کا آنا جانا رہتا تھا فرشتے بدبو سے نفرت کرتے ہیں اس لیے رسول اللہﷺ ہر وقت بہترین خوشبو سےمعطر رہتے تھے ۔ خود آپ کا جسم مبارک بھی ذاتی طور پر خوشبو دار تھا ۔ فداء ابی ونفسی وروحی ﷺ