سنن النسائي - حدیث 525

كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ تَأْخِيرُ الْمَغْرِبِ صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ فَقُلْنَا لَهُ أَخْبِرْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَاكَ زَمَنَ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ وَكَانَ الْفَيْءُ قَدْرَ الشِّرَاكِ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ قَدْرَ الشِّرَاكِ وَظِلِّ الرَّجُلِ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ صَلَّى مِنْ الْغَدِ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الظِّلُّ طُولَ الرَّجُلِ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ قَدْرَ مَا يَسِيرُ الرَّاكِبُ سَيْرَ الْعَنَقِ إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِ اللَّيْلِ شَكَّ زَيْدٌ ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 525

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل معرب کو تاخیر سے پڑھنا بشیر بن سلام نے کہا کہ میں اور حضرت محمد بن علی (باقر) رحمہ اللہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور ان سے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے، اور حجاج بن یوسف کا دور تھا۔ انھوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھی جب سورج ڈھل گیا اور ابھی سایہ تسمے کے برابر تھا۔ پھر عصر کی نماز پڑھی جبکہ سایہ آدمی کے قد اور ایک تسمے کے برابر تھا (ایک مثل سے ایک تسمے کی مقدار کے برابر بڑا تھا۔) پھر مغرب کی نماز پڑھی جب سورج غروب ہوگیا۔ پھر عشاء کی نماز پڑھی جب سرخی غائب ہوئی۔ پھر فجر کی نماز پڑھی جب فجر طلوع ہوئی۔ پھر اگلے دن ظہر کی نماز پڑھی جب سایہ آدمی کے قد کے برابر تھا۔ پھر عصر کی نماز پڑھی جب آدمی کا سایہ دگنا ہوگیا اور اتنا وقت باقی تھا کہ ایک اونٹ سوار درمیانی تیز چال سے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا، پھر مغرب کی نماز پڑھی جب سورج ڈوب چکا تھا، پھر عشاء کی نماز تہائی یا نصف رات کے وقت پڑھی، پھر فجر کی نماز خوب روشنی میں پڑھی۔ (۱)’’سایہ تسمے کے برابر تھا۔‘‘ یعنی دیواروں کی مشرقی جانب ابھی معمولی سا سایہ آیا تھا، جیسے دیوار کے ساتھ ساتھ تسمیہ بچھا دیا جائے، یعنی باریک سی لائن کی طرح، گویا سورج ڈھلتے ہی۔ (۲)عصر کی نماز کے وقت یہی تسمہ مثل اول سے زائد تھا، یعنی معمولی سا زائد سایہ جو تسمے کی موٹائی کے برابر تھا۔ (۳)مغرب کی نماز کا آخری وقت غروب شفق ہے جیسا کہ گزشتہ احادیث میں صراحت سے ذکر ہے مگر چونکہ مغرب کا وقت مختصر ہوتا ہے، اس لیے عموماً غروب شمس ہی کے ساتھ پڑھ لی جاتی ہے جیسا کہ اس حدیث میں دوسرے دن بھی غروب شمس ہی کے ساتھ پڑھنے کا ذکر ہے، اس لیے بعض فقہاء نے کہہ دیا کہ مغرب کی نماز کا اول وآخر وقت ایک ہی ہے لیکن صحیح بات وہ ہے جو پیچھے بیان ہوئی۔