سنن النسائي - حدیث 5224

كِتَابُ الزِّينَةِ مِنَ السُّنَنِ الْجَلَاجِلُ حسن أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بَابَيْهِ مَوْلَى آلِ نَوْفَلٍ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جُلْجُلٌ وَلَا جَرَسٌ وَلَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5224

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل گھنگرو اور چھوٹی گھنٹیوں کا بیان نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ ؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں گھنگرو یا گھنٹی ہو ۔ اورفرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں جاتے جس میں گھنٹی ہو ۔ ‘‘ 1۔ گھنگرو جانوروں ، پروندوں حتی کہ بچوں کے گلے میں ڈالے جاتے ہیں ۔ اسی طرح جانوروں ،پرندوں اوربچوں کے پاؤں میں بھی باندھے جاتے ہیں جب کہ بڑے جانوروں کی گردنوں میں بھی گھنٹی ڈالی جاتی ہے ۔ ویسے بھی سکولوں اورگرجوں میں گھنٹیوں بجائی جاتی ہین ۔ نبی اکرم ﷺ نے گھنٹی کو شیطانی آواز فرمایا لہذا کہیں ضرورت اور مجبوری ہو تو اس کی گنجائش ہو سکتی ہے ۔ بلاوجہ جائز نہیں ہے ۔ 2۔ فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں ورنہ محافظ فرشتے اور کاتبیں فرشتے توہر وقت ساتھ رہتے ہیں ۔ گویا گھنٹی والی جگہ فرشتوں کی بجائے شیطان ہوتا ہے ، اس لیے وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت نہیں ہوتی ۔