سنن النسائي - حدیث 5221

كِتَابُ الزِّينَةِ مِنَ السُّنَنِ نَزْعُ الْخَاتَمِ عِنْدَ دُخُولِ الْخَلَاءِ صحيح دون قوله : " و لا يلبسه " فإنه شاذ أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَكَانَ فَصُّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ فَطَرَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5221

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت انگوٹھی اتارلینے کا بیان حضرت ابن عمر ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی ۔ آپ اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھتے تھے ۔ لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوالیں ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے اتار پھینکا۔ لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں ۔ پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی ۔ آپ اس سے مہر لگاتے تھے ۔ اسے پہنتے نہیں تھے ۔ 1۔ ’’اتار پھینکیں ‘‘ صحابہ کرام ﷢ کے اس طرح کرنے سے معلوم ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ کے افعال کی اقتدا بھی اسی طرح ضروری تھی اور ہے جس طرح آپ کے اقوال و احکام اور فرامین کی ، الا یہ کہ خصوص کی کوئی دلیل ہو ۔ 2۔ ان احادیث کی باب سے مناسبت کےبار ے میں دیکھیے فائدہ حدیث :5217۔ 3۔ ’’اسے پہنتے نہیں تھے ‘‘ یعنی ہمیشہ نہین پہنتے تھے تاہم اکثر اسے پہنا کرتے تھے ۔