سنن النسائي - حدیث 5213

كِتَابُ الزِّينَةِ مِنَ السُّنَنِ النَّهْيُ عَنْ الْخَاتَمِ فِي السَّبَّابَةِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيٌّ سَلْ اللَّهَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ وَنَهَانِي أَنْ أَجْعَلَ الْخَاتَمَ فِي هَذِهِ وَهَذِهِ وَأَشَارَ يَعْنِي بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5213

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل انگشت شہادت میں انگوٹھی پہننے کی ممانعت حضرت علی ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا : ’’ علی ! اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور میانہ روی مانگا کر ۔ ‘‘ نیز آپ نے مجھے اس اور اس ‘ یعنی شہادت اور درمیانی انگلی میں انگوٹھی ڈالنے سے منع فرمایا ۔ 1۔ اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ( مردوں کے لیے ) انگشت شہادت اور درمیان والی انگلی میں پہننا ممنوع ہے ‘ نیز ان دونوں انگلیوں کے علاوہ باقی دو یعنی چھنگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی میں انگوٹھی پہننا درست ہے ۔ امام نووی ﷫ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ ( مردوں کے لیے ) چھنگلی ( چیچی ) میں انگوٹھی پہننا مسنون ہے جبکہ عورت اپنی تمام انگلیوں میں انگوٹھی پہن سکتی ہے ‘ نیز انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ شہادت والی اور درمیان والی انگلیوں میں مردوں کے لیے انگوٹھی پہننے کی جو ممانعت ہے تو یہ نہی تنزیہی ہے وجوب کی نہیں ہے ۔ لیکن امام نووی ﷫ کی یہ ( نہی تنزیہی والی ) بات محل نظر ہے کیونکہ نہی تو تحریم کے لیے ہوتی ہے الا یہ کہ کوئی کوئی قرینہ صارفہ موجود ہو اور اس جگہ کوئی بھی قرینہ نہیں ہے لہذا یہ نہی تحریم کے لیے ہے ۔ واللہ اعلم . 2 ۔ ہدایت وسداد ( میانہ روی ) کی دعا کرنا مستحب ہے ۔