سنن النسائي - حدیث 520

كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ أَوَّلُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ صحيح أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ أَقِمْ مَعَنَا هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ عِنْدَ الْفَجْرِ فَصَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ رَأَى الشَّمْسَ بَيْضَاءَ فَأَقَامَ الْعَصْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ وَقَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ ثُمَّ أَمَرَهُ مِنْ الْغَدِ فَنَوَّرَ بِالْفَجْرِ ثُمَّ أَبْرَدَ بِالظُّهْرِ وَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ وَأَخَّرَ عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَصَلَّاهَا ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ وَقْتُ صَلَاتِكُمْ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 520

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل نماز مغرب کا اول وقت حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ’’ہمارے پاس آئندہ دون ٹھہرو۔‘‘ آپ نے (پہلے دن) بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انھوں نے فجر ہوتے ہی اقامت کہی اور آپ نے فجر کی نماز پڑھائی۔ پھر جونہی سورج ڈھلا تو آپ نے انھیں اقامت کا حکم دیا اور ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر جب سورج کو سفید دیکھا (تپش دوپہر سے کم ہوئی) تو اقامت کا حکم دیا اور عصر کی نماز پڑھی۔ پھر جب سورج کا آخری کنارہ ڈوب گیا تو اقامت کا حکم دیا اور مغرب کی نماز پڑھائی۔ پھر جب سورج کی سرخی غائب ہوگئی تو عشاء کی اقامت کہلوائی۔ پھر اگلے دن اسے (تاخیر کا) حکم دیا اور فجر کو روشنی میں پڑھا۔ پھر ظہر کو ٹھنڈا کیا اور خوب اچھی طرح ٹھنڈا کیا۔ پھر عصر کی نماز پڑھی جب کہ سورج ابھی سفید تھا (زرد نہ تھا)۔ ویسے پہلے دن سے مؤخر کیا۔ پھر شفق (سرخی) غائب ہونے سے پہلے مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر آپ نے ان (حضرت بلال رضی اللہ عنہ) کو حکم دیا تو انھوں نے عشاء کی اقامت کہی جب کہ تہائی رات گزر چکی تھی اور آپ نے عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر فرمایا: ’’کہاں ہے وہ شخص جس نے نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھا تھا؟ (اسے لایا گیا تو آپ نے فرمایا:) تمھاری نمازوں کے اوقات ان (دو دنوں کی نمازوں) کے درمیان میں ہیں جو تم نے دیکھے۔‘‘ (۱)اس سے ملتی جلتی کئی روایات گزر چکی ہیں۔ ایک حدیث کے اجمال کو دوسری کی تفصیل سے حل کیا جاسکتا ہے۔ (۲)مغرب کی نماز کے اول وقت کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ غروب شمس اور آخری وقت غیوب شفق ہے۔ (۳)دین کے ضروری مسائل سے آگہی ہر مسلمان پر فرض ہے، لہٰذا خوب اہتمام اور ذوق شوق سے انھیں سیکھنا چاہیے۔ (۴)اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر نماز کا ایک افضل وقت ہے اور ایک وقت جوازواختیار۔ (۵)عملی مشق، وضاحت کا بلیغ ترین نمونہ ہے۔ (۶)کسی مصلحت شرعیہ کے پیش نظر نماز کو اول وقت سے مؤخر کرنا جائز ہے۔