سنن النسائي - حدیث 52

ذِكْرُ الْفِطْرَةِ بَاب التَّوْقِيتِ فِي الْمَاءِ صحيح أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنْ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ فَقَالَ إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ الْخَبَثَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 52

کتاب: امور فطرت کا بیان (قلیل اور کثیر )پانی کی تحدید حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سےروایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےاس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر عام جانور اور درندے (پانی پینے اور نہانے کے لیے) آتے جاتے رہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’جب پانی دو مٹکے (یا اس سے زائد) ہو تو وہ (مذکورہ چیزوں سے) پلید نہیں ہوتا۔‘‘ (۱) باب کا مقصد ماء کثیر کی حد بیان کرنا ہے، جو معمولی نجاست سے پلید نہیں ہوتا بشرطیکہ رنگ، بو اور ذائقہ نہ بدلے۔ (۲) [قلۃ] بڑے مٹکے کو کہتے ہیں، اس کے چھوٹے اور بڑے ہونے کی وجہ سے اس کی مقدار میں اختلاف رائے واقع ہوا ہے۔ لیکن عرب میں ھجر (شہر یا بستی کا نامض کے مٹکے مشہور و معروف تھے۔شعراء نے اپنے اشعار میں بکثرت اس کا استعمال کیا ہے اور امثال میں بھی اسے بہت بیان کیا ہے۔ حدیث میں بیان شدہ مٹکے سے یہی ھجر کا مٹکا مراد ہے، دوسرا کوئی مٹکا مراد نہیں ہوسکتا۔ اور ان کے مٹکے میں اڑھائی سورطل پانی کے سمانے کی گنجائش تھی، لہٰذا دو قلعوں کے پانی کی مقدار پانچ صدرطل ہوئی جو موجودہ زمانے کے پیمانے کے مطابق دو سو ستائیس کلوگرام ہوتی ہے۔ (۳) شریعت نے قلیل پانی اور کثیر پانی کے حکم میں فرق کیا ہے۔ قلیل پانی تو تھوڑی سی نجاست سے بھی پلید ہو جاتا ہے، خواہ رنگ، بو اور ذائقہ تبدیل نہ بھی ہو، مگر کثیر پانی اس وقت تک پلید نہیں ہوتا جب تک نجاست کی وجہ سے اس کا رنگ یا بو یا ذائقہ تبدیل نہ ہو جائے۔ ظاہر ہے قلیل پانی برتن میں ہوگا اور برتن والے پانی کی حفاظت ممکن اور آسان ہے جب کہ کثیر پانی کسی کھلی جگہ میں ہوگا اور کھلے پانی کی حفاظت ممکن نہیں۔ ہوا اور بارش کے ذریعے سے اس میں مختلف چیزیں گرتی رہتی ہیں۔ جانوروں اور پرندوں کی نجاست بھی اس میں گرتی رہتی ہے۔ اگر تھوڑی سی نجاست سے اسے پلید قرار دے دیا جاتا تو لوگوں کو انتہائی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا۔ تنگی دور کرنا بھی شریعت کا مستقل ضابطہ ہے، لہٰذا کھلا پانی اس وقت تک پاک رہتا ہے جب تک اس میں اتنی زیادہ نجاست نہ مل جائے کہ رنگ، بو اور ذائقہ تک بدل جائے۔ (۴) اس حدیث میں اگرچہ رنگ، بو اور ذائقے کا ذکر نہیں، مگر دوسری احادیث میں صراحتاً مذکور ہے۔ فتویٰ دیتے ہوئے کسی ایک روایت کو بنیاد نہیں بنایا جا سکتا، بلکہ پیش آمدہ مسئلے سے متعلقہ تمام آیات و احادیث اور آثار کو مدنظر رکھ کر ہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ (۵) علمائے احناف نے اس تحدید کو تو تسلیم نہیں کیا مگر اپنی طرف سے دَہ در دَہ (10x10) کی حد مقرر کی ہے، اس کے علاوہ ان میں باہم سخت اختلاف بھی ہے یہاں تک کہ ان کے فقہاس کے قلیل و کثیر پانی کی تحدید کے متعلق چودہ اقوال ہیں۔ (۶) پانی سے متعلق تفصیلی احکام و مسائل کی بابت کتاب المیاہ کا ابتدائیہ دیکھیے۔