سنن النسائي - حدیث 5193

كِتَابُ الزِّينَةِ مِنَ السُّنَنِ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالِاخْتِلَافُ عَلَى قَتَادَةَ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ فِي يَدِهِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَقْرَعُهُ بِقَضِيبٍ مَعَهُ فَلَمَّا غَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْقَاهُ قَالَ مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ أَوْجَعْنَاكَ وَأَغْرَمْنَاكَ خَالَفَهُ يُونُسُ رَوَاهُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ مُرْسَلًا ُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5193

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل ابوہریرہ کی حدیث اور فتادہ پر اختلاف کا بیان حضرت ابو ثعلبہ ﷜ سے روایت ہے کہ نبئ اکرمﷺ نے ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ اسے اپنی چھڑی سے مارنے لگے ۔ جب نبئ اکرمﷺ کی توجہ کسی اور طرف ہوئی تو اس ( ابوثعلبہ) نے اسے اتار پھینکا۔ آپ نے فرمایا:ہمارا خیال ہے کہ ہم نے تجھے ( چھڑی مار کر) تکلیف دی اور تیرا نقصان بھی کیا۔ یونس نے اس ( نعمان بن راشد) کی مخالفت کی ہے اس نے یہ روایت عن الزہری عن ابی ادیس ( کی سند)سے مرسل بیان کی ہے۔ امام نسائی﷫ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نعمان بن راشد نے روایت موصول بیان کی ہے ، جبکہ یونس نےیہ روایت موصول کی بجائے مرسل بیان کی ہے جیسا کہ آئند حدیث5194 میں ہے۔ لیکن نعمان بن راشد کی بیان کردہ موصول روایت غیر محفوظ ہے جبکہ یونس کی مرسل روایت محفوظ ہے کیونکہ زہری سے بیان کرنے میں یونس، نعمان کےمقابلے میں اوثق اور اثبت ہے۔ مزید برآں یہ کہ جلیل القدر آئمہ حدیث، مثلاً:امام بخاری، امام احمد، ابن معین، ابوحاتم، عقیلی، امام ابو داؤد اور امام نسائی﷫ وغیرہم جیسے معروف محدثین نے بھی نعمان بن راشد پرکلام کیا ہے۔